آئینہ ُمنفعل ترے جلوے کے سامنے
جاری ہے حکم یہ کہ دو پارہ قمر ہوا
کیوں دَر بدر فقیر تمہارا کرے سوال
یہ وہ کریم ہیں کہ جو مانگو وہی ملے
منگتا کی عرض شاہِ مَدینہ قبول ہو
ربِّ کریم ہے یہ دُعا میری روزِ حشر
وزنِ عمل کا خوف ہو کیوں مجھ اَثیم کو
جنت تو کھینچتی ہے کہ میری طرف چلو
شاہ و گدا فقیر سلاطین رُوزگار
آنکھیں ہوں بند لب پہ دُعا دِل میں ہو دُرُود
اس طرح موت آئے تو ہو زندگی مری
کیا لطف ہو جو خاکِ مَدینہ پہ میں مروں
توقیر ان کے گھر کی ہے منظور اس قدر
اَہل نظر نے غور سے دیکھا تو یہ ُکھلا
وہ دن جمیلِؔ قادری رضوی کو ہو نصیب
— Jamil Ur Rehman Qadri\
