چراغِ آرزو کب تک جلائیں یا رسول اللہ
صبا کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا ہے غلاموں نے
میں خالی ہاتھ آیا تھا نہ خالی ہاتھ جاؤں گا
جواں بیٹوں کے سر پر عافیت کا سائباں مانگیں
بڑی مدت سے کشتی آپ کی نادان امت کی
— Riaz Hussain Chaudhary\
چراغِ آرزو کب تک جلائیں یا رسول اللہ
صبا کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا ہے غلاموں نے
میں خالی ہاتھ آیا تھا نہ خالی ہاتھ جاؤں گا
جواں بیٹوں کے سر پر عافیت کا سائباں مانگیں
بڑی مدت سے کشتی آپ کی نادان امت کی
— Riaz Hussain Chaudhary\
آنکھوں کا تارا نامِ محمد
اَللّٰہُ اَکْبَر ربُّ العلا نے
ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکن
دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
شیدا نہ کیوں ہوں اس پر مسلماں
اللہ والا دَم میں بنادے
صَلِّ عَلٰی کا سہرا سجا کر
نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ
سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں
پائیں مرادیں دونوں جہاں میں
دونوں جہاں میں دنیا و دیں میں
مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر
رکھو لحد میں جس دم عزیزو
پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریں
روزِ قیامت میزان و پل پر
پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
رَنج و اَلم میں ہیں نام لیوا
بیڑا تباہی میں آگیا ہے
زخمی جگر پر مجروح دل پر
دل میں عداوت خرکے بھری ہے
اپنے رضا کے قربان جاؤں
آنکھوں میں آکر دِل میں سما کر
اپنے جمیلؔ رضوی کے دل میں
— Unknown
نعت گوئی سے مجھے گرچہ بہت رغبت رہی
اُن کی چوکھٹ پر تصور میں گزاری ایک شام
آپؐ سے بڑھ کر دیا کس نے محبت کو فروغ
آپؐ کے ایثار و صبر وضبط سے پا کر جلا
مجھ سے عاصی پر کرم فرمائیوں کی حد نہیں
خاک زادوں پر عیاں کیسے ہو عظمت آپؐ کی
اک سے اک بڑھ کر کھلے عاطفؔ ثنا خوانی کے پھول
— Akhlaq Atif\
الہٰی ! مدد کر! مدد کی گھڑی ہے
میرےتن پہ غفلت کی چادر پڑی ہے
گناہوں کےدریا میں کشتہ پھنسی ہے
یہی بات ہم نے بڑوں سے سنی ہے
اےابرِ کرم! آبرس جا برس جا
گناہوں کے دریا میں کشتی پھنسی ہے
نہیں پاس حسن عمل میرے مولا
عبید رضا نیکیوں سے ہے خالی
گناہوں کےدریا میں کشتی پھنسی ہے
لب مصطفیٰ ﷺ سے خدایا سنا دے
— Unknown
سیرت کروں بیان، صفاتِ نبیؐ لکھوں
ہر کیفیت میں آپؐ مرے ساتھ ساتھ ہیں
خالق نے مالِ حسنِ فراواں انھیں دیا
ہے نعت گوئی میں بھی ضروری کچھ احتیاط
میں ربط و صبر و ضبط سے واقف نہیں ابھی
مجھ سا گناہ گار بھی آیا ہے راہ پر
ناصر بشیرؔ جب مجھے آتا نہیں قرار
— Nasir Bashir\
سماں کس قدر خوبصورت ہےلوگو کہ دنیا میں خیرالانام آرہا ہے
شرافت کا منبع صداقت کا پیکر عطا کردیاجسکو خالق نے کوثر
کبھی چاند آقا کے قدموں میں آۓ کبھی ڈوبے سورج کو الٹا پھراۓ
جدا یارسےیاررہتانہیں ہےکوئی بات مرضی سے کہتا نہیں ہے
نبی کے پیاروں کی تو شان دیکھو جو شاہی میں بھی کرگۓ ہیں فقیری
کرم مجھ پہ ہے تیرا مختارمیرےتیرےدم سے چمکے ہیں اشعار میرے
— Unknown
جس طرف دیکھئے گلشن میں بہار آئی ہے
خوشنما پھول گُلستاں میں کِھلے ہیں لیکن
مصطفٰے کی یہ عِنایت ہے کہ میرے دل میں
جب کبھی جس نے بھی پائی ہے جہاں کی نعمت
آہ! مجبور پہ ناچار پہ رنج و غم کی
دے دے مولا! غمِ سلطانِ مدینہ دیدے
جب تڑپ کر دِلِ غمگیں نے پُکارا آقا!
کر دو سَیراب دِل تِشنہ کو اب تو ساقی!
گُھپ اندھیرا تھا گناہوں کا میں صدقے جاؤں
نَزع میں ، قَبر میں ، مِیزانِ عمل اور پُل پر
سُنّتیں شاہِ مدینہ کی تُو اپنائے جا
مال و دولت کی ہَوَس دِل سے مٹادے یارب
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
حرفِ آغاز میں ہے خدا، یا نبی
رونق ارضِ جاں مصطفیٰ مصطفیٰ
دستکیں دے رہی ہے شمیم سحر
تیرے دربار میں سر جھکاۓ ہوۓ
— Riaz Hussain Chaudhary\
بے کسوں کو بھلا اور کیا چاہیے
بجھتی آنکھوں میں آجاۓ گی روشنی
آپؐ کے نقشِ پا چومتا چل پڑے
میرے گھر میں اندھیروں نے قبضہ کیا
دل میں آلِ نبیؐ کی محبت بھرو
گرم اشکوں سے جلتی ہیں آنکھیں مری
مٹتی جائیں گی ارشدؔ تری مشکلیں
— Arshad Mehmood Arshad\
اِن نِلتَ یَا رَوُحَ الصَّبَا یَومًا اِلیٰ اَرضِ الحَرَمِ
اے باد صبا!اگر تیراسرزمین حرم تک ہوتو میراسلام اس روضہ کو پہنچا جس میں نبی محترم تشریف فرما ہیں
مَن وَّجھُہ شَمسُ الضُّحیٰ مَن خَدُّہ بَدرُ الدُّجٰی
وہ جن کا چہرہ انورمہرنیمروزہےاورجن کےرخسار تاباں ماہِ کامل جن کی ذات نور ہدایت ہےجن کی ہتھیلی سخاوت میں دریا ہے
قُرٗآنُہٗ بُرٗھَانُنَا فَسٗخًا لِاَدٗیَان مَّضَتُ
ان کا(لایا ہوا) قرآن ہمارےلۓواضح دلیل ہےجس نے ماضی کے تمام ادیان کو منسوخ کردیاجب اس کے احکام ہمارےپاس آۓتو( پچھلے)سارےصحیفےمعدوم ہو گۓ
اَکبَدُنَا مَجرُوحَۃُ مِن سَیفِ ھِجرِ المُصطَفٰی
ہمارے جگرزخمی ہیں فراق مصطفیٰ کی تلوارسے، خوش نصیبی اس شہر کے لوگوں کی ہےجس میں نبی محتثم ہیں
یَا لَیتَنِی کُنتُ کَمَن یَّتبِع نَبِیَّا عَالِمًا
کاش میں اس کی طرح ہوتا جو نبی کی پیروی علم کے ساتھ کرتاہےدن اور رات ہمیشہ اے خدا اسی طرح اپنےکرم سےنواز
یَا رَحمَۃً لِلعَالَمِینَ اَنتَ شَفِیعُ المُزُنبِین
اے رحمت عالم! آپ گنہگاروں کے شفیع ہیں ہمیں قیامت کےدن فضل وسخاوت اورکرم سےعزت بخشۓ
یَا رَحمَۃً لِلعَالَمِینَ اَدُرِک لِزَینِ العَابِدِینَ
اےرحمتِ عالم!زین العابدین کو سنبھالۓ وہ ظالموں کےہاتھوں میں گرفتارحیرانی و پریشانی میں ہے
— Hazrat Imam Zain Ul Abidin\