رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\
رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\
آخِری روزے ہیں دل غمناک مُضطَر جان ہے
عاشِقانِ ماہِ رَمضاں رو رہے ہیں پھوٹ کر
درد و رِقّت سے پچھاڑیں کھا کے روتا ہے کوئی
اَلفِراقُ آہ الفِراق اے رب کے مہماں اَلفِراق
داستانِ غم سنائیں کس کو جا کر آہ! ہم
خوب روتاہے تڑپتا ہے غمِ رَمضان میں
روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی ہیں عُشّاق کی
تیری فُرقت میں ترے عاشق کا دل ٹکڑے ہوا
وقتِ اِفطار و سَحر کی رَونقیں ہوں گی کہاں
تیری آمد سے دلِ پَژمردہ کھل اٹّھے مگر
ہائے صد افسوس! رَمضاں کی نہ ہم نے قدر کی
ماہِ رَمضاں تجھ میں جو روزے نہیں رکھتا کوئی
کر رہے ہیں تجھ کو رو رو کر مسلماں الوداع
روک سکتے ہی نہیں ہائے تجھے اب کیا کریں
السلام اے ماہِ رمضاں تجھ پہ ہوں لاکھوں سلام
چند آنسو نَذر ہیں بس اور کچھ پلّے نہیں
واسِطہ رَمضان کا یارب! ہمیں تُو بخش دے
دست بستہ التجا ہے ہم سے راضی ہو کے جا
کاش! آتے سال ہو عطارؔ کو رَمضاں نصیب
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
کہنے لگا بھنور کہ تجھے راستہ دیا
شب بھی اتار بیٹھی سرِ ماتمی لباس
کہتے ہیں انکی نعت ہی سب اپنے رنگ میں
طیبہ بلا کے مجھ سے گناہ گار شخص کو
سُنتے ہوۓ وہ نعت مجھے خلد لے گۓ
اس بات پر لحد میں شہِ دیں بھی خوش ہوۓ
یوں مست ہیں کہ اپنی بھی ہم کو خبر نہیں
اک شب سجائی محف صد آہ و اشک و درد
پہلے تو مجھ کو شوقِ حضوری عطا کیا
پر نور کررہے ہیں بہتر چراغ آپ
پڑھ کر درودِ پاک دیا میں نے گل کو آب
عاصی ہو تم اگر تو شفاعت ہے میرے پاس
آقا میرے کریم میرے قاسم عطا
— Unknown
حَسبِی رَبیِ جَلَّ اللہ
اوّل و آخر ہے اللہ
کون مکاں میں ہے اللہ
اعلیٰ جس کی ذات وہی
کھل جائیں در جنت کے
عرض غلام فقیر ہے اب
— Unknown
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
حسن ہے بے مثل صورت لا جواب
پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوں
میری حامی ہے تیری شانِ کریم
ہیں دعائیں سنگ دشمن کا عوض
پلتے ہیں ہم سے نکمے بے شمار
روزِ محشر ایک تیرا آسرا
میں ید بیضا کے صدقے اے کلیم
کیا عمل تو نے کئے اس کا سوال
مہر و مہ ذَرّے ہیں ان کی راہ کے
تم سے اس بیمار کو صحت ملے
دیکھ رِضواں دَشتِ طیبہ کی بہار
شور ہے لطف و عطا کا شور ہے
جرم کی پاداش پاتے اَہلِ جرم
پر تمہارے لطف آڑے آگئے
ہے حسنؔ محوِ جمالِ رُوئے دوست
— Hassan Raza Khan Barelvi\
یہ نوازشیں یہ عنائتیں غمِ دوجہاں سے چھڑا دیا
وہ خدا ہے جس کا خیال بھی مری ہر پہنچ سے بلند ہے
مرا سوزِ لذت زندگی مرے اشک میری بہار ہیں
کہاں میں کہاں تری آرزو کہاں میں کہاں تری جستجو
تو کریم کتنا عظیم ہے تو رؤف ہے تو رحیم ہے
جو ملال میرا تھا تمہیں اس کا کتنا خیال تھا
میں ہوں اپنے حال پہ مطمئن میں کسی کوکیسے بتاؤں گا
وہ گھڑی بھی آۓ کہ خواب میں وہ دکھائیں اپنی تجلیاں
یہ تمہارا خالدؔ بے نوا ہے سرور وکیف کا واسطہ
— Khalid Mehmood Khalid\
مدینہ کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنا
محمد ﷺ کی باتیں محمد ﷺ کی سیرت
مدینے کے آقا ﷺ دوعالم ﷺ کے مولا
پہنچ جائیں ہاشم جب ہم مدینے
— Unknown
گنبدِ خضرا تک آہوں کی رسائی مل جاۓ
قابلِ رشک ہو میرے لیے دریوزہ گری
پا برہنہ ہو سفر سوۓ مدینہ میرا
کاش ایسا ہو مجھے خواب میں حسان ملیں
کوئی مضمون سجھائیں مجھے میرے آقاؐ
کیا کروں گا میں زمانے کی خدائی لے کر
— Rana Saeed Doshi\
آہ! رَمضان اب جا رہا ہے
ٹکڑے ٹکڑے مرا دل ہوا ہے
دیکھ کر چاند میں رو پڑا تھا
جلد رخصت کا وقت آگیا ہے
اشک آنکھوں سے اب بہ رہے ہیں
وہ دلِ غمزدہ جانتا ہے
غم جدائی کا کیسے سہوں گا
آنکھ پُر نَم ہے دل رو رہا ہے
جاں فِدا تجھ پہ نانائے حَسنَین
دل پہ صدمہ بڑھا جا رہا ہے
کر کے تقسیم بخشِش کی اَسناد
سب کو روتا ہوا چھوڑتا ہے
تُو یہ کرنا خُدا سے سفارش
تجھ سے عطارؔ کی التِجا ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
بستر پہ نبی جس کو سلا دے وہ علی ہے
ہوتی ہو قضاء عصر تو انگشت پییمبر
سرکار کے بعد اور کیا کس نے یہ دعویٰ
اس چہرے کی توقیر بیاں کیا ہو کہ جس کو
تلوار اٹھائے ہوئے میدان میں آ کر
قاتل کو کبھی پیش کیا جام کسی نے
باتوں میں نہاں جس کے اصرار پییمبر
دے مانگنے والے کو طلب سے بھی زیادہ
— Unknown