یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را
بے وسائل آمدَن سوئے تو منظورِ تو نیسْتْ
مَظْہَرِ عَون اَنْد و اِینجا مَغز حرفی بیش نیسْتْ
نیسْتْ عَون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہِیچ نیسْتْ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را
بے وسائل آمدَن سوئے تو منظورِ تو نیسْتْ
مَظْہَرِ عَون اَنْد و اِینجا مَغز حرفی بیش نیسْتْ
نیسْتْ عَون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہِیچ نیسْتْ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
دل جھوم اٹھا اور چلنے لگی رحمت کی ہوا سبحان اللہ
نادار کی بخشش کا ساماں ہر غم کی دوا دکھ کا درماں
اپنوں کے لیےبھی رحمت کل غیروں کےلیےبھی ہادیء سبل
جب کثرتِ غم سے گھبرا کر ہم سوۓ مدینہ تکتے ہیں
ہم جیسے نکموں پرانکی ہے کتنی عنایت روز افزوں
یہ اوج وشرف افلاک ہدف حیران ہیں سب اسلاف وخلف
سرکار کےدرپراے خالدؔ تکرارِ دعا کا ذکر ہی کیا
— Khalid Mehmood Khalid\
حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
حضور آپؐ آۓ تو آئی بہاریں
ادب سے پکاریں ملائک بھی سارے
سب انبیاء بھی سلامی کو آۓ
محشر میں سب گھبرا گۓ تھے
حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
— Unknown
دے کے روضے پہ حاضری میں نے
مل گیا اذن باریابی کا
تیرگی چھٹ گئی کہ دیکھی ہے
پائی اس خوش کلامؐ کے صدقے
ہیں مدینے میں نقش پاۓ نبیؐ
آج حسانؔ جیسے شاعر کی
ذکرِ اللی اور درود نبیؐ
— Sarfraz Shahid\
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
کیا دَبے جس پہ حِمایت کا ہو پنجہ تیرا
تُو حُسینی حَسَنی کیوں نہ محی الدّیں ہو
قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
مصطفیٰ کے تن ِبے سایہ کا سایہ دیکھا
اِبنِ زَہرا کو مبارک ہو عَروسِ قدرت
کیوں نہ قاسِم ہو کہ تُو ابنِ ابی القاسم ہے
نبوی مینھ علوی فصل بتولی گلشن
نبوی ظِل عَلوی برج بتولی منزل
نبوی خُور عَلَوی کوہ بتولی مَعْدِن
بحروبرشہر و قُریٰ سہل و حُزُن دشت و چمن
حُسنِ نیّت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
عرضِ اَحوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
موت نزدیک گناہوں کی تَہیں مَیل کے خول
آب آمد وہ کہے اور میں تیمم برخاست
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
تجھ سے در درسے سگ اور سگ سےہےمجھکونسبت
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
میری قسمت کی قَسَم کھائیں سگانِ بغداد
تیری عزّت کے نثار اے مِرے غیرت والے
بد سہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی
مجھ کو رُسوا بھی اگر کوئی کہے گا تو یوں ہی
ہیں رضاؔ یُوں نہ بلک تو نہیں جَیِّتو نہ ہو
فخرِ آقا میں رضاؔ اور بھی اِک نظمِ رفیع
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
مونھ دھو کے جوئے شیر میں آئے ہزار صبح
لِلّٰہ اپنے جلوۂ عارِض کی بھیک دے
روشن ہیں ان کے جلوۂ رنگیں کی تابشیں
رکھتی ہے شامِ طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پاک سے
آتے ہے پاسبانِ دَرِ شہ فلک سے روز
اے ذَرَّۂ مَدینہ خدا را نگاہِ مہر
زُلف حضورِ عارِضِ پرنور پر نثار
نورِ وِلادَتِ مہِ بطحیٰ کا فیض ہے
ہر ذَرَّۂ حرم سے نمایاں ہزار مہر
گیسو کے بعد یاد ہو رخسارِ پاک کی
کیا نورِ دِل کو نجدیٔ تیرہ دَروں سے کام
حُسنِ شبابِ ذرۂ طیبہ کچھ اَور ہے
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
مایوس کیوں ہو خاک نشیں حُسنِ یار سے
کیا دشتِ پاکِ طیبہ سے آتی ہے اے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
سوہنا آیا تے سج گئے نے گلیاں بازار
ثانی نہ کوئی میرے سوہنے نبی ﷺ لجپال دا
کیوں نا سوہنے دیں صفتاں کراں میں
میرا تے ایمان اے توسی میرے کول اوہ
ایڈا سوہنا نبی کوئ دنیا تے آیا نہیں
سونا آیا تی سج گا نی گالیان بازار
— Unknown
شانِ حضور فکرِ بشر میں نہ آسکے
تفصیل کیا بیان ہو ان کے عروج کی
والفجر ان کے چہرے کو قرآن نے کہا
دیکھے جو ایک بار مدینے کی رونقیں
کو ہوسکا نہ ذکر محمدﷺ سےآشنا
جس پر ظہوریؔ ان کی نگاہِ کرم رہے
— Muhammad Ali Zahoori\
اے کوۓ محبوبؐ کے مسافر
جو دل میں اتریں حسین منظر
نظر میں ہو جب کہ سبز گنبد
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی جاء پر
کرم جو ان کا ہو تم پہ زائر
بہا کے عشق کے یہ جواہر
یہ دور دوری ہو بس حضوری
ذرا سے دانے انہیں کھلا کر
نہ کھاۓ ٹھوکر تیرا اجاگر
— Unknown
کچھ بھی ہو، خوۓ یار سے ہٹنے کی خو نہ ہو
مضمون آفرینی و نکتہ سرائی میں
میری سپہ مجھی پہ نہ تلوار کھینچ لے
بیکار ہی نہ جائیں سخن کی ریاضتیں
جیسے کسی نے اپنی عبادت کے زعم میں
ایسا نہ ہو کہ اہلِ محبت کے نام پر
اے صدقِ عشق زاد مرے سچ کی لاج رکھ
اے عشق سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
تجھ پر اگر میں شعر لکھوں تجھ کو بھول کر
میں خاک ڈالتا ہوں زر و سیمِ حرف پر
مقبول اہلِ بیتِ محبت رہوں سعود
— Saud Usmani\