بندۂ حق عمر نہ کھو لہو میں
سب کو فنا ہے نہ رہے گا کوئی
وقتِ ُمعین پہ اَجل آئے گی
آئی شب اُنیسویں ذِی الحجہ کی
والدِ ماجد مرے رخصت ہوئے
بدھ کا دن ، اُنیسویں ، بارہ بجے
مصرع میں لکھ دے سنِ رحلت جمیلؔ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
بندۂ حق عمر نہ کھو لہو میں
سب کو فنا ہے نہ رہے گا کوئی
وقتِ ُمعین پہ اَجل آئے گی
آئی شب اُنیسویں ذِی الحجہ کی
والدِ ماجد مرے رخصت ہوئے
بدھ کا دن ، اُنیسویں ، بارہ بجے
مصرع میں لکھ دے سنِ رحلت جمیلؔ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
یا صاحب الجمال ویا سید البشر
لایمکن الثناءُ کما کان حقہ
— Hafiz Shams Ud Deen Muhammad Sherazi\
مَظْہَرِعظمتِ غفّار ہیں غوثِ اعظم
واقفِ حکمت و اَسرار ہیں غوثِ اعظم
نائبِ احمدِ مختار ہیں غوثِ اعظم
گر فَقَط آپ کے اَخیار ہیں غوثِ اعظم
میرے مرشِد مِری سرکار ہیں غوثِ اعظم
نہ مخالف فَقَط اغیار ہیں غوثِ اعظم
حشر تک گائیں گے ہم گیت تمہارے مرشد
دودھ ماں کا نہ پیا آپ نے رمضانوں میں
تم نے مُردوں کو جِلایا ہے ہمارے دل بھی
منہ لگاتا نہیں دنیا میں جسے کوئی بھی
کھوٹے سکّے جہاں چل جا تے ہیں وہ ہے بغداد
مال و دولت کی طلب ہم کو نہیں ہے مُرشِد
راہ بھولا، مجھے یاغوث! سہارا دے دو
شاہِ بغداد اِدھر بھی ذرا چشمِ رحمت
چار جانب سے گناہوں نے ہمیں گھیرا ہے
اب دعا کیلئے ہاتھ اپنے اٹھا دو مرشد !
اب اٹھا بھی دو نِقاب اپنے رُخِ انورسے
ہو کرم! حُسنِ عمل آہ! نہیں ہے کوئی
حشر کے روز ہماری بھی شَفاعت کرنا
اپنے عطّارؔ کو چُمکار کے دیجے ٹکڑا
— Unknown
ہو جاتے ہیں خود رستے ہموار مدینے کے
کیوں کر نہ فلک کو بھی اس شہر پہ رشک آئے
آنکھوں کو عطا ہوگا سرمایۂ بینائی
برسوں کی عبادت کا حاصل ہے ہر اک لمحہ
اس دور مقدس کی یادوں کے تصور میں
اے بخت رسا خوش ہو بخشش کی گھڑی آئی
بہتر ہے کسی گل سے کانٹا رہ طیبہ کا
اپنوں کا مقدر ہے عرفان کی یہ دولت
تم لاکھ مٹا ڈالو دھرتی سے انہیں لیکن
آقا کی ثناؤں میں کٹ جائے سفر اچھا
اے دیو ہوس مجھ پر کیا زور چلے تیرا
پھر اس کو نہیں رہتی حسرت کسی منظر کی
ہے طرفہ مزاج ان کا دیدار علاج ان کا
یہ آب نجس اٹھوا یہ جام و سبو لے جا
اس آس پہ بیٹھا ہوں مدت سے نصیرؔ اب تک
— Muhammad Hanif Nazish\
محبوب تُو ذاتِ خدا کا ہے، یا خواجہ معین الدین چشتیؒ
تو نور کا اک مینارہ ہے، یا خواجہ معین الدین چشتیؒ
ہے تیرا تصور شام و سحر، اور ذکر تیرا آٹھوں پہر
اک چشمِ زدن میں گر چاہے، ناقص کو بنا دے تو کامل
تو راہر دنیا ودیں، تو بزمِ ہدیٰ کا صدر نشیں
شاداں ہے معین الحق اس پر اکرام تیرے ہیں صبح و مسا
— Peer Syed Moeen Ul Haq Gillani\
مرشدِ برحق شہِ احمد رضا
عکسِ جمالِ شہ اٰلِ رسول
غوث کے اَنوار و فیوض و علوم
واقفِ اَسرارِ خفی و جلی
مُتَّبِعِ سنتِ خیرُ الوریٰ
ماحی بدعاتِ و ضلالات و کفر
مانیں جنہیں اَہلِ عرب بھی امام
جمعہ کو پچیس صفر وقتِ ظہر
مصرعِ تاریخ یہ ِلکھ اے جمیلؔ
پیر و مرشد مرے جنابِ رضا
مفتیِ دِیں مجددِ مِلَّت
اَہلِ اِیمان بلکہ اَعدا بھی
جمعہ کے دن صفر کی تھی پچیس
عرض کر اے جمیلؔ سالِ وِصال
— Jamil Ur Rehman Qadri\
مرے خواب میں آ بھی جا غوثِ اعظم
کبھی تو غریبوں کے گھر کوئی پَھیرا!
کچھ ایسی پلا دو شرابِ مَحَبَّت
ہیں زیرِ قدم گردنیں اَولیا کی
ہیں سارے ولی تیرے زیرِنگیں اور
مدد کیجئے آہ! چاروں طرف سے
بہار آئے میرے بھی اُجڑے چمن میں
رہے شاد و آباد میرا گھرانا
دمِ نَزع شیطاں نہ ایمان لے لے
مُریدین کی موت توبہ پہ ہوگی
مری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد!
کرم آپ کا گر ہوا تو یقینا
مری قبر میں ’’لاتَخَف‘‘کہتے آؤ
گو عطارؔ بد ہے بدوں کا بھی سردار
— Unknown
حق جلوہ گر، زطرز بیانِ محمدؐ است
آئینہ دارِ پرتو مہر است ماہتاب
تیر قضا ہر آئینہ در ترکشِ حق است
ہر کس، قسم بہ آنچہ عزیز است می خورد
واعظ حدیث سایہ، طوبیٰ فروگزار
بنگر، دونیمہ، کشتنِ ماہ تمام را
غالب ثناۓ خواجہؐ، بہ یزدان گزاشتیم
— Mirza Asad Ullah Khan Ghalib\
ترے دَربار کے جبریل دَرباں یَارَسُوَلَ اللہ
ہزاروں ناظرہ پڑھ پڑھ کے حافظ ہوگئے اس کے
تری سیرت نے لاکھوں بت پرستوں کو کیا مومن
دُرِ دَندانِ اَقدس کی جھلک کا ایک پرتو ہے
مصیبت دور بھاگے مشکلیں آساں ہوں فوراً
ترا اِک قطرئہ دَریائے رَحمت سرخرو کردے
شہید کربلا کی پیاس کا صدقہ برس جائے
اَثر کیوں کر کرے گی آفتابِ حشر کی گرمی
تجھے دیکھوں تیرے یاروں کو دیکھوں اور ترے رب کو
قیامت میں مدد کرنا مری اے شافع محشر
براتی ساتھ ہوں دولہا کے جب میدانِ محشر میں
خریداروں میں اس عاصی کو بھی فرمائیے شامل
اَجل نزدیک ہے اُس سبز گنبد کی زِیارت کا
سنہری جالیوں کے سامنے گر میرا دم نکلے
جو منکر ہیں وہ جلتے ہیں نبی کے نامِ نامی سے
جمیلِؔ قادری دَربارِ حق میں پیش ہو جس دم
— Jamil Ur Rehman Qadri\
ہے محمد میرا دل تو سینا علیؑ
صبح سے شام تک ہر پہر ہر گھڑی
رمز بقاۓ ہاشمی
جانم فداۓ حیدری
— Saleem Abbas\