حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\
حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\
میری محبت میرا حوالہ رب ہے رب
مایوسوں محروموں گرتے پڑتوں کا
انجاموں سے بھی آگے اس کا آغاز
احساس و جذبات کا رابطہ رکھ اس سے
سبحان ربی العظیم ہے اس کی ذات
میری روح میں دل میں ذہن میں آنکھوں میں
جتنی تعریفیں کی جائیں کم ہیں کم
پہنوں اوڑھوں اسے مظفر صرف اُسے
— Muzaffar Warsi\
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں
بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے
دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
مست مئے الست ہے وہ بادشاہِ وقت ہے
ان کی گدائی کے طفیل ہم کو ملی سکندری
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے
اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبر منزل
مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
وہ چمکا گنبد خضریٰ وہ شہر پر ضیاء آیا
جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلد مدینہ میں
ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
میری خلوت میں مزے انجمن آرائی کے
سر ہے سجدے میں خیال رُخ جاناں دل میں
سجدہ بے الفت سرکار عبث ہے نجدی
دشتِ طیبہ میں گمادے مجھے اے جوشِ جنوں
میں تو ہوں بلبل بستان مدینہ اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے
نہ بات مجھ سے گل خلد کی کر اے زاہد
یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد
یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی
فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے
جو ہیں مریض محبت یہاں چلے آئیں
کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً
نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا
پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
دور اے دل رہیے مدینے سے
ان سے میرا سلام کہہ دینا
ہر گل گلستاں معطر ہے
ذکر سرکار ا کرتے ہیں مومن
پیجئے چشم ناز سے ان کی
اس تجلی کے سامنے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
گل زارِ حسن کا گل رنگین ادا ہے
توصیف میں اس کی جو کہوں اس سے سوا ہے
نام اس کا بہت خوب ہے خود اس کی ثنا ہے
رحمانی ضیاؤں کی رِدا میں وہ چھپا ہے
اب عقل کی پرواز اسے چھو نہیں سکتی
سدرہ سے کوئی پوچھے ذرا اس کی بلندی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\