کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
بھاویں نہ لبھیا پانی ، شکوہ زرا نہیں کیتا
آل نبی دی عظمت ، بچیاں نوں جو سکھاندی
دسیا جنھاں نیں سانوں ، زھرا دے گھر دا رتبہ
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
— Unknown
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
بھاویں نہ لبھیا پانی ، شکوہ زرا نہیں کیتا
آل نبی دی عظمت ، بچیاں نوں جو سکھاندی
دسیا جنھاں نیں سانوں ، زھرا دے گھر دا رتبہ
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
— Unknown
چھوڑ کر تیرا دامنِ رحمت
کھو دی اپنی قدر و قیمت
حد سے گزری ہے نادانی
گھیرے ہوئے ہے نفرت و ذلت
بن گے سیم و زر کے بندے
چھِن گئی ہم سئ فقر کی دولت
دکیھیں ہماری آنکھ مچولی
بھول گئے ہم درسِ اخوت
علم و عمل کا رشتہ ٹوٹا
فرقہ فرقہ ہوگئی امت
ساری دنیا میں ٹھکرائے ہوئے
آقاؐ کھول دو ہم پہ بابِ رحمت
— Unknown
اَب آدمی کچھ اور ہَماری نَظر میں ہے
اَپنا ہی جَلوہ ہے جو ہَماری نَظر میں ہے
وہ گَنجِ حُسن ہے دِلِ وِیراں میں جَلوہ گَر
بَس اِک فَروغِ نَقشِ کَفِ پا کے فیض سے
اللہ خیر میرے دِلِ بیقرار کی
خود بینیوں کی آنکھ مِلی چشمِ شوق کو
بَننے سے پہلے ساغرِ مَے ٹُوٹ جاتے ہیں
غُربت میں بھی خیالِ وَطن ساتھ ساتھ ہے
اے نُوح ! اپنی کشتئ عالم سے ہوشیار
اِک مِیہماں سے دونوں گھر آباد ہیں مِرے
حیران ہُوں کہ سَجدہ کَروں تو کِدھر کَروں
ہَنستے ہیں میرے گِریۂ بے اِختیار پر
بیدم یہ جُستجو بھی عَجب ہے عَجب تَلاش
— Bedam Shah Warsi\
یہ زمیں یہ فلک
ہر سحر پھُوٹتی ہے نئے رنگ سے
ہر ستارے میں آباد ہے اِک جہاں
نُور ہی نُور بِکھرا ہے کالک نہیں
سو نپ کر منصبِ آدمیّت مُجھے
— Muzaffar Warsi\
زمیں کے لوگ ہوں یا اہلِ عالمِ بالا
تِرے قلم کی گواہی ، مرقّعِ عَالَم
دِیے حسین خدو خال تُو نے مٹّی کو
تھمائی مہر کو لَیل و نہار کی ڈوری
زمینِ تِیرہ کے مُنہ سے لگا دِیا تُو نے
پڑھے قصیدہ وحدت ، ہجومِ کون و مکاں
مُجھے ہی تُونے دیا اِختیارِ لغزش بھی
اُتار کر مِرے سِینے میں آگہی کے چانّد
ہر ایک سانّس کو میری ، بنا چراغِ حرم
— Muzaffar Warsi\
شب کو مہتاب نِکالا ہے
دُنیا ئے رنگین کی دُلہن
مہکار جُدا آواز جُدا
قبضہ ہے جس کی چُٹکی کا
— Muzaffar Warsi\
بے حِسی ، راہ نُما ٹھہری ہے
چھِن گئیں مجھ سے مِری روشنیاں
اپنے ہی خُوں میں نہا کر نِکلوں
کِس کی زنجیر ہلاؤں جا کر
بھُول بیٹھا ہُوں خُدا کو شاید
کوئی منزل ہے نہ رستہ میرا
پیاس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
عکسِ اَسلاف سے شِکوہ ہے مجھے
مسجدِ رُوح میں ہوتی ہے اذاں
رحم، اَفلاس پہ میرے ، یارب
— Muzaffar Warsi\
مرے لئے مرے اللہ دو حرم ہیں بہت
تو سامنے سہی تجھ تک رسائی سہل نہیں
خطا معاف میں دو وحدتوں کا قائل ہوں
کدھر کدھر تری آواز کی طرف جاؤں
رہ سلوک میں یہ کونسا مقام آیا
نیاز مند مظفر کو بھی بنا اُن کا
— Muzaffar Warsi\
نہیں ہے کوئی بھی اللہ کے سوا موجود
نہ اونگھتا ہے نہ کچھ نیند اس کو آتی ہے
وہ کون ہے جو کرے بارگاہ میں اُسکی
ہر ایک لمحہ جو پیش آرہا ہے لوگوں کو
احاطہ علم کا اس کے کسی کے بس کا نہیں
اور اُسی کرسی کہ ارض و سما پہ حاوی ہے
— Muzaffar Warsi\
نگاہ دنیا لگے گی دنیا حرم لگے گی
رکھیں گے اپنی جبیں جو سجدے میں اس کے آگے
مٹاؤ گے بھوک کس طرح زندگی کی آخر
کریں گے ہر حال میں جو شکر اس کا اس کے بندے
قصیدہ حمدیہ میں اس شان سے لکھوں گا
جو اُس کی خوشنودیوں کو پیش نظر نہ رکھّا
کریں گے انکار ہم اگر یوم آخرت کا
عمل کے سکّے اگر وہاں چل گئے مظفر
— Muzaffar Warsi\