عشق علی ہے پیار علی ہے
احمد ہیں اعتبار خدا کا
کس کے نکاح میں دوں یہ زہرۂ
باطل کے جو ٹکڑے کر دے
— Unknown
عشق علی ہے پیار علی ہے
احمد ہیں اعتبار خدا کا
کس کے نکاح میں دوں یہ زہرۂ
باطل کے جو ٹکڑے کر دے
— Unknown
اللہ میرے اللہ،اللہ میرے اللہ،اللہ میرے اللہ،اللہ میرےاللہ
یا اللہ رحم کر لکھ دے میری تقدیرمیں
اے میرےرب شہر مکہ سے مدینے کی طرف
گزرے دن مکے میں شب گزرے مدینہ پاک میں
جتنے بھی ایام اب باقی ہیں میری زیست کے
میں بھی بن جاؤں تیرے دربار کا جا روب کش
یہ صدا یے روز وشب قلب علیم زار کی
— Aleem Udeen Aleem\
کس زباں سے ہو بیاں مدح وشانِ اہلِ بیت
ان کی پاکی کا خداۓ پاک کرتا ہے بیاں
بے اجزت اُن کے گھر جبریل بھی آتے نہیں
رزم کا میداں بنا ہے جلوہ گاہِ حسن وعشق
کِس مزے کے لذتیں ہیں آبِ تیغ یار میں
گھر لُٹانا سر کٹانا کوئی تجھ سے سیکھ لے
اہل بیت پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
بے ادب گستاخ لوگوں کو بتا دے اے حسنؔ
— Unknown
اللہ جل جلالہ
ترے نام پر اے مرے خدا,
مری روح کی ہے یہی غذا
ہے دعا کہ آخری سانس تک
کبھی شان لطف و عطا میں تو
میں گناہگار ہوں اے خدا
نہیں ہو سکا ترا حق ادا
جو بروز حشر حساب ہو
— Unknown
غوثِ اعظم دستگیر اللہُ غنی
منگتوں کو مختار بنایا چوروں کو ابدال
مولا علی کے آپ ہیں پیارے ولیوں کے سردار
ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالا جس میں تھی بارات
جس نے اُن کا نام لیا ہے اُس کا بیڑا پار
میں عاصی منگتا ہوں تمہارا دکھیوں کے غمخوار
— Unknown
پتا پتا بوٹا بوٹا ذکر خدا
پربت پربت، دھرتی دھرتی، امبر امبر واصف
قر یہ قریہ، وادی وادی، گلشن گلشن ذاکر
قمری قمری، طوطی طوطی،بلبل بلبل حامد
رم جھم، رم جھم گرتی بارش گیت اسی کے گاۓ
سندر سندر دل کے اندر نام اجاگر اس کے
— Allama Nisar Ali Ujagar Attari\
سرکار غوثِ اعظم نظرِ کرم خدارا
سب کا کوئی نہ کوئی دنیا میں آسرا ہے
جھولی کو میری بھر دو ورنہ کہے گی دنیا
یہ اداۓ دستگیری کوئی میرے دل سے پوچھے
صدیق عمر کا صدقہ عثمان علی کا صدقہ
گنجِ شکر کا صدقہ احمد رضا کا صدقہ
یہ تیرا کرم ہے مرشد جو بنا لیا ہے اپنا
— Unknown
اے چارہ گرِ شوق کوئی ایسی دوا دے
بس دیکھ لیا دنیا کے رشتوں کا تماشا
پاکیزہ تمنائیں بھی لاتی ہیں اداسی
کیوں نیک گمانوں کے سہارے پہ جیئے ہے
دیکھے یا نہ دیکھے یہ تو محبوب کا حق ہے
دے لذتِ دیدار کی بے ہوشی میں وہ ہوش
ناسوت و ملکوت و جبروت کے احوال
اک میں ہوں فقط تو ہو عالمِ ہُو ہو
ہر فعل صفت ذات سے یوں مجھ کو فنا کر
میں خود کو بھی خود اپنے سے پھر ڈھونڈ نہ پاؤں
انوار و معانی طبائع سے جدا کر
ہوں ترے حجابات کی دہلیز پہ کب سے
ہے روح کو ہر لمحہ ترے وَصل کی امید
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
کرم کرم کرم کرم کرم کرم مولا
سبحان وی توں رحمان وی توں
اے رحیم کریم علیم رہا
مولا دل کا زنگ چھڑا
— Unknown
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہماری لاج کِس کے ہاتھ ہے بغداد والے کے
ہُوا موقوف فوراً ہی برسنا اہلِ مجلس پر
فرشتے مَدرَسے تک ساتھ پہنچانے کو جاتے تھے
عزیزو کر چُکو تیار جب میرے جنازے کو
نِدا دے گا مُنادی حشر میں یوں قادریوں کو
رسولُ اللہ کا دشمن ہے غوثِ پاک کا دشمن
— Jamil Ur Rehman Qadri\