یا راحم یا رحمٰن یا عادل یا دیّان
بے مثل ہے تو لا ریب تو پاک ہے تو بے عیب
قرآن تیرا انعام ہے خاص تیرا انعام
اس دور میں ہر انسان بے بس ہے اور بے جان
وہ نبیوں کا سردار کل عالم کا مختار
— Unknown
یا راحم یا رحمٰن یا عادل یا دیّان
بے مثل ہے تو لا ریب تو پاک ہے تو بے عیب
قرآن تیرا انعام ہے خاص تیرا انعام
اس دور میں ہر انسان بے بس ہے اور بے جان
وہ نبیوں کا سردار کل عالم کا مختار
— Unknown
الہی حمد سے عاجز ہے یہ سارا جہاں تیرا
زمین و آسماں کے ذرے ذرے میں ترے جلوے
ٹھکانا ہر جگہ تیرا سمجھتے ہیں جہاں والے
ترا محبوب پیغمبر تری عظمت سے واقف ہے
جہانِ رنگ و بو کی وسعتوں کا رازداں تو ہے
تری ذات معلیٰ آخری تعریف کے لائق
— Muhammad Ali Zahoori\
تُو نے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا
دور باطل اور ضلالت ہند میں تھا جس گھڑی
اہل سنت کا چمن اجڑا ہوا ویران تھا
تُو نے باطل کو مٹا کر دین کو بخشی جلا
اے امام اہل سنت نائب شاہِ امم
حشر تک جاری رہے گا فیض آقا آپ کا
ہے بدرگاہِ خدا عطارؔ عاشق کی دعا
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
کعبے کی رونق کعبے کا منظر
حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں
تیرے حرم کی کیا بات مولا
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے
مولٰی صبیح اور کیا چاہتا ہے
— Sabeeh Rehmani\
تیری رحمتوں کادریا سر عام چل رہا ہے
میرے دل کی دھڑکنوں میں ہے شریک نام تیرا
یہ چاند اور ستارےیہ سلسلے جہاں کے
تیری مستی نظر سے ہے بہار میکدے کی
یہ کرم ہے خاص تیرا کہ سفینہ زندگی کا
میلاد ہم کریں گے چاہےساری دنیا روکے
سرِ عرش نام تیرا سرِ حشر بات تیری
مرے دامن گدائی میں ہے بھیک مصطفیٰ کی
— Qasim Jahangiri\
یہ تو توفیق الہی کی اذاں ہوتی ہے
گھر سے بے روح بدن لے کے نکل پڑتا ہوں
اس کو دل چاہیے اور دل بھی مرے آقا کا
رد نہیں ہوتی مری اذن _ حضوری کی دعا
خلد ملنے کے لئے مجھ سے مرے گھر کا نہ پوچھ
ہجر کی آبلہ پائی ہے مدینے کے لئے
وہ اٹھاتے ہیں قدم عرش مہک اٹھتا ہے
میرے اشعار کہاں نعت کا معیار کہاں
— Unknown
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
— Dr Allama Muhammad Iqbal\
تم ذات خداسے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطاہو وہ عطا ہو
جس بات پہ مشیورِجہاں ہے لبِ عیسیٰ
ٹوٹےہوۓ دم جوش پہ طوفان معاصی
مٹی نہ ہوبرباد پسِ مرگ، الہٰی
منگتا تو ہے منگتاکوئی شاہوں میں دکھا دے
قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان کی جبیں پر
ہروقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے
سو جاں سے گنہگارکا ہورختِ عمل چاک
ابرارنیکوکارخدا کے ہیں خدا کے
اے نفس انہیں رنج دیااپنی بدی سے
اللہ یونہی عمر کابھی اداہو نہیں سکتا
شکر ایک کرم کا بھی ادا ہونہیں سکتا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
نسبت کیا ہے پیاری پیاری
تیرا کرم ہے ذاتِ باری
آقا دے دو بے قراری
کرتا رہوں میں اشک باری
آقا سن لو عرض ہماری
پوری کروں میں ذمہ داری
درس وبیاں سے کیوں گھبراؤں
کیوں ہو کسی کو رعب طاری
دیتا رہوں نیکی کی دعوت
گزرے یوں ہی عمر ساری
میں بھی دیکھوں مکہ مدینہ
کب آۓ گی میری باری
عشقِ نبی ﷺ کی مۓ پلا دو
باپا عطا ہو ایسی خُماری
دے دو مرشد قُفلِ مدینہ
میں ہوں منگتا میں بھکاری
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
کہتی ہے یہ پھولوں کی ردا، اللہ ہو اللہ
بادل نے آسماں پہ لکھا، اللہ ہو اللہ
ہو سورۂ یٰسین کہ ہو سورۂ رحمٰن
کرتا ہے ثناء تیری برستا ہوا پانی
خوشبو، کرن، اجالے، دھنک اور کہکشاں
شبنم گری جو پھولوں پہ پڑھتی ہوئی ثناء
جب نزع کے عالم میں ہو مولا یہ اجؔاگر
— Allama Nisar Ali Ujagar Attari\