مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
کرےجو دور سوہنےتوں اوہ دولت کون منگدااے
خیال امت دا نہیں رکھدے جےخود آقاﷺ تےدس مینوں
سنا کے نعت آقا ﷺ دی پتا لکھاں دا کیتا اے
مدینے شہر دا پانی جیویں کوثر دا پانی ایں
جے وچ فردوس دےہووےنبی دا قرب لیکھاں وچ
جے خودقدماں دےوچ رکھےنبیﷺ سوہنا غلاماں نوں
جے ککھ رہ جان محشروچ نبی دے سامنےناصر
— Syed Nasir Hussain Chishti\
جہاں میں سب سے اونچا ہےمیرے سرکار کا جھنڈا
فرازِ عرش پربھی اڑرہا ہےشان وشوکت سے
اتر کرعرش سے جبریل نے کعبے کی رفعت پر
خبر اس بات کی اے منکرو شاید نہیں تم کو
قسم اللہ کی وہ شخص ہے سرکار کا عاشق
بچاۓگا بروزِ محشروہ امت کو گرمی سے
ازل سےاس کی عظمت پرتصدق ہوں میں اے عابدؔ
— Unknown
اِدھر چوم لوں گا اُدھر چوم لوں گا
ہے چامان تسکین جاں اُن کا سایہ
جو سجدہ گہہ قدسیان فلک ہے
ہیں جس میں بسےسبزگنبد کے جلوے
نسیم شفاعت کے آئیں گے جھونکے
سناۓ گا جب تو نویدِ حضوری
مجھے لاکھ روکے کوئی چومنے سے
جو اک بار روکا مجھے چومنے سے
— Unknown
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
گر ارض و سما کی محفل میں '' لولاک لما'' کا شور نہ ہو
جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
بوبکر و عمر عثمان و علی ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی
وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکان فلسفہ سے
— Unknown
کعبے میں جوسنی ہے اذاں، پھر سنائی دے
ہر سانس چومتی رہے احمد ﷺ کا آستاں
روضے کےسامنےپڑھوں جی بھرکےمیں درود
اک بار پھر سے گنبدِ خضریٰ کو دیکھ لوں
عاصی، گنہگار، خطاکار ہے حسن
— Hassan Rizvi\
جانے کیا کیا دان کیا ہے شہرِ مدینےوالے نے
سیدنا حمزہ کا قاتل آگیا جب دروازے پر
ایک خدا ہےاک ہےقرآں ایک ہی دےکردیں ہم کو
گمراہی کی دلدل میں تھے لت پت سارے لوگ مگر
ایک نظر فرمانےسےہی بات مری تو بن آئی
جن کی نہیں تھی کوئی عزت کوئی عظمت اُن کوبھی
شہر مدینے جانے والو تم کو لاکھ مبارک ہو
جن کا کوئی نہیں ہے ناصرؔان کا میں ہوں اے ناصرؔ
— Unknown
طیبہ کی طرف ہے عزم سفردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
طیبہ کی منور راگزردل وجد میں ہے جاں رقص میں ہے
واللیل کا روشن منظرہے والشمس کے نوری جلوے ہیں
لو ظلمتِ شام رنج والم اب دورہوئی کافور ہوئی
خورشید مدینہ کے جلوے راتوں کو منور کرتے ہیں
جب تشنہء الفت نےپاۓ اس ابررحمت کے چھینٹے
دیوانہء عشق حضرت ہوں بےگانہء عقل وہوش نہیں
پھریاد مجھے بھی فرمایا سرکارِ مدینہ نے افضل
— Unknown
رسول مجتبیٰ کہۓ، محمد مصطفیٰ ﷺ کہۓ
شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہۓ
جب اُنؐ کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہو جاۓ
مری سرکار کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں
محمد ﷺ کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا
غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے
مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے
— Unknown
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
لوگ کہتے ہیں کہ سایا تیرےپیکر کا نہ تھا
شرق اورغرب میں بکھرےہوۓ گلزاروں کو
اب بھی ظلمات فروشوں کع گلہ ہے تجھ سے
پورے قدم سے جو کھڑاہوں تویہ تیراہےکرم
ایک بار اور طیبہ سے فلسطین میں آ
— Ahmed Nadeem Qasmi\