مصطفیٰ کی رسالت کی کیا بات ہے
جب بھی سجدہ کروں آئیں آقا نظر
زندگی میں رفیق اور قبر میں رفیق
طیبہ میں ہی جیوں طیبہ میں ہی مروں
پنجتن پاک تو ہے سفینہء نوح
کتا جنتی ہوا نیک لوگوں میں رہ
دونوں جگ میں حکومت ہے جن کی چلے
— Unknown
مصطفیٰ کی رسالت کی کیا بات ہے
جب بھی سجدہ کروں آئیں آقا نظر
زندگی میں رفیق اور قبر میں رفیق
طیبہ میں ہی جیوں طیبہ میں ہی مروں
پنجتن پاک تو ہے سفینہء نوح
کتا جنتی ہوا نیک لوگوں میں رہ
دونوں جگ میں حکومت ہے جن کی چلے
— Unknown
جہاں میں جس قدر شانِ رسالت کی دہائی ہے
میں قرباں، آپ کی آمد ہوئی اس رات جس جا پر
یہی وہ نور، ضو افشاں ہے اب سارے زمانے پر
منور ہوگئی ہرشےانہی انوارکے صدقے
خوشاجب وہ خرامِ ناز تھے عرشِ معلیٰ پر
عطا فاروقؔ مضطر کوبھی ہونعلین کا صدقہ
— Farooq Ahmed Mehmood\
تیرے دیار کے احسان بھولتے ہی نہیں
وہ جالیاں ، وہ دریچے وہ ممبر و محراب
جبیں پہ نور ، نظر میں ادب ، دلوں میں گداز
بوقتِ اذنِ حضوری ، وہ آنسوؤں کی تڑپ
ملائکہ بھی یہ جنت میں جا کہ کہتے ہیں
نظر بدل گئی ، منظر بدل گئے سارے
— Unknown
میرے آقا آؤ کے مدت ہوئی ہے،
میرے لب پہ مولا نہ کوئی صدا ہے،
میرا ہے یہ ایماں یہ میرا یقیں ہے،
قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے،
یہ مانا کہ اک دن آنی قضا ہے،
— Ahmed Ali Hakim\
مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں
ان کی راہوں پہ مجھےاتنا چلانا یا رب
زندگی نےتوسمندرمیں مجھےپھینک دیا
میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں
اس قدرعشق نبی ہو کہ بھلا دوں خود کو
ضرب دوں خود کوجوان سےتولگوں لاتعداد
جو پہنچتی رہے ان تک جو رہےمحوطواف
آرزو اب تو مظفرجو کوئی ہےتویہ ہے
— Muzaffar Warsi\
اسمِ احمد سے، محمد سےعیاں ہے عظمت
نورِوحدت کاہی پرتو ہےوہ نورِ احمد
بارہ حرفوں سےہےکلمے میں بیانِ توحید
نام اللہ کابےعیب کہ نقطہ بھی نہیں
میم اوّل سے محمدؐ کو عطا مُلک ہوا
اسمِ سرکار کاہر حرف ہے کیا بامعنیٰ
یوں ہوئی آپ کی ہر ایک پہ قائم حشمت
آپ کی ذات بنائی ہے دلیلِ قدرت
اک سوا کسریٰ کےجس میں ہےدلیلِ قلت
جس سے ظاہر ہوئی دنیا پہ نبی کی رفعت
یوں عطا کی ہے محمدؐ کو خدا نے سطوت
سارے ادوارہیں اُن کےجو ہیں شانِ وحدت
(عالمی میلاد کانفرنس میں حضور شیخ الاسلام کی تقریر کے بنیادی نکات نعت کی صورت میں)
— Muhammad Ishfaq Alam Qadri\
رُخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بلبل نے گُل ان کو کہا قُمری نے سَروِ جانفزا
خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہوگی یا روزِ جزا
دن لَھوُ میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ ھق ٹالا کیا
ہے بلبلِ رنگیں رضاؔ یا طوطئ نغمہ سرا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
میرے نبی نے اتنا نوازا جھک گیا سر شکرانے میں
تھوڑی تھوڑی پیتا رہوں گا کب تک تیری محفل میں
اپنی نظر کے جام پلا کر سب کے ہوش اڑا ساقی
برسوں بیت گئے ہیں آقا آس لگائے بیٹھا ہوں
رب کا ہے احسان نیازی اور یہ خاص عنایت ہے
— Abdul Sattar Khan Niazi\
مرنے کی طرف دیکھ نہ جینے کی طرف دیکھ
دن رات کرم مانگ غم عشق نبی کا
وہ پار لگائیں گے پکاران کے کرم کو
کونین کا دل ہے کلس گنبد خضریٰ
شکوہ نہ کہیں ہوترا انداز طلب بھی
اس آئینہ خانے میں مدینہ ہے مدینہ
خالد کو بھی خیرات ملے عفووکرم کی
— Khalid Mehmood Khalid\
ہر خطا تُو درگزر کر بے کس و مجبور کی
زندگی اور موت کی ہے یاالٰہی! کشمکش
واسطہ نورِ محمدﷺ کا تجھے پیارے خدا !
آپ کے میٹھے مدینے میں پۓ غوث ورضا
جس کسی نے بھی دعا کے واسطے یا رب ! کہا
آمنہ کے لال ﷺ! صدقہ فاطمہ کے لال کا
بہرِ شاہِ کربلا ہو دور آقاﷺ! ہر بلا
نامۃ اعمال میں کوئی حُسنِ عمل نہیں
— Unknown