یہ چمک یہ دمک یہ پھبن یہ مہک
میرا دل لے لو میری جاں لے لو،
میں تو بھول گئی سب سکھ چینا
مجھے خوف نہیں ہے دنیا کا
میرا کوئی نہیں ہے دنیا میں
— Unknown
یہ چمک یہ دمک یہ پھبن یہ مہک
میرا دل لے لو میری جاں لے لو،
میں تو بھول گئی سب سکھ چینا
مجھے خوف نہیں ہے دنیا کا
میرا کوئی نہیں ہے دنیا میں
— Unknown
رحمت کا در کھلا ہے محمد ﷺ کے شہر میں
جو دل رہے اُداس مدینے کی یاد میں
لفظوں میں کیا بتاؤں میں تم کو اے دوستو
اُس کے لبوں پہ چرچےتھے رب کی حبیب کے
آقا کے نغمے پڑھتا ہے وہ جھوم جھوم کر
سینہ مرا یہ نور سے ثاقبؔ ہے بھر گیا
— Unknown
جھوم کر سارے پکارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ کر اے عصیاں شعارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
مفلسو غربت کے مارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
تم بھی کہہ دو مالدارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
سب پکارو بے قرارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ دو رنج و غم کے مارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ دو اے سجدہ گزارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ دو کعبے کے مِنارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
سب پکارو آبشارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
تم بھی کہہ دو مُرغ زارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ دو تم بھی چاند تارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کیوں نہیں کہتے ہو پیارے مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
تم بھہ کہہ دو ریگزارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
کہہ دو دریا کے کنارو مرحبا یا مصطفےٰ ﷺ
دھوم ہے عطارؔ ہر سُو شاہ ﷺ کے میلاد کی
سرکار ﷺ کی آمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرحبا
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
جب تک کہ مدینہ سے اشارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
بے دام ہی بِک جاتے بازارِ نبی میں
ملتی نہ اگر بھیک ہمیں آپ کے در سے
خالؔد یہ تصدق ہے فقط نعت کا ورنہ
— Unknown
جلوۃ ذات قدم ہم کودکھانے آۓ
معجزہ ہےمیرےسرکارکااُمی ہونا
مَا عَرفَنَکَ ہے عرفان رسول عربی
رہنے وہ سایہ نعلین سروں پر آقا
تم پہ مرنے میں بھی جینے کا مزہ اتاہے
پاۓ اقدس سے ذرا مل تو لوں آنکھیں اپنی
نور لَولَاکَ لَمَا کب سے ہے معلوم نہیں
نورِ حق شوق نہیں لفظ و بیاں کی حد میں
خوش نصیب اس سے بڑاکوئی نہیں دنیامیں
— Khawaja Shouq\
محبوبِ خدا سید و سرور کے برابر
لاکھوں ہیں زمانے میں سکندر کے برابر
جبریل امیں کرتے ہیں جس در کی غلامی
سرکار کی رحمت سے میں مایوس نہیں ہوں
کعبے میں ولادت ہوئی مسجد میں شہادت
ہرروزاٹھاتےہیں حضوری کے مزے جو
نادان انہیں اپنا سا کہتے ہیں نیازیؔ
— Unknown
زمیں میلی نہیں ہوتی، زمن میلا نہیں ہوتا
محبت کملی والے سے یہ جذبہ ہے سنو لوگو
گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر میں شبنمی قطرے
نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی ان کی
میں نازاں تو نہیں فن پر مگر ناصؔر یہ دعویٰ ہے
— Syed Nasir Hussain Chishti\
والئ مکہ والئ طیبہ اور دنیا کے والی
ہر جانب یہ دھوم مچی ہے
ربیع الاول امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
خدا نے ناخدائی کی خود انسانی سفینے کی
ازل کے روز جس کی دھوم تھی وہ آج کی شب ہے
جہاں میں جشن صبح عید کا سامان ہوتا تھا
بہر سُو نغمہ صلِ عَلیٰ گونجا فضاؤں میں
فرشتوں کی سلامی دینے والی فوج گاتی تھی
آمنہ بی کے پیارے کا جشن مناؤ مل کے
مبارک ہو محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لے آۓ
مبارک ہو شہہ ہر دوسرا ﷺ تشریف لے آۓ
مبارک ہو عاصیوں کے آسراﷺ تشریف لے آۓ
آمنہ بی کے پیارے کا جشن مناؤ مل کے
جاتے ہیں معراج کو آقاﷺ جگمگ ہے کونین
ایسے نبی ﷺ کا واسطہ دےکررب کع مناؤ مل کے
جو مانگو گے وہ پاؤ گے پوری ہوگی آس
دو جگ کے مختارﷺ کو نعرہ سارے لگاؤ مل کے
نبیوں کے سلطان ہیں آقا ﷺ نبیوں کے سلطان
اپنے اپنے من کی بپتا ان کو سناؤ مل کے
— Khalish Muzaffar\
جو درِشاہِ دیں سے ملتا ہے
کوئی بھی جستجو ہو کوئی لگن
آپ کی شانِ حُسن کیا کہنا
ہم گداۓ درِ محمد ﷺ ہیں
اللہ اللہ وہ روضۃ پُر نور
والضحیٰ ہو زباں پہ یا والشمس
کیا کہیں کس قدر سکوں محشر
— Mehshar\
زمیں و زماں تمھارے لئے
دہن میں زباں تمہارے لئے
اصالت کل ، امامت کل،
تمہاری چمک تمہاری دمک
وہ کنز نہاں یہ نور فشاں
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر
نہ روحِ امیں نہ عرشِ بریں
جناں میں چمن، چمن میں سمن،
اشارے سے چاند چیر دیا،
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے،
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\