یا نبی ہم گنہگاروں کو دردِ فرقت سے اب جلا دینا
خاکِ طیبہ ملےلحد کےلۓکالی کملی ملے کفن کےلۓ
دور رہ کر تمہاری چوکھٹ سے اشک آنکھوں سے بہتے رہتے ہیں
آپ نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ختم اک آپ پرنبوت ہے
لاج رکھنا شہہ زمن میری التجاہے یہ قلب عشرت کی
— Unknown
یا نبی ہم گنہگاروں کو دردِ فرقت سے اب جلا دینا
خاکِ طیبہ ملےلحد کےلۓکالی کملی ملے کفن کےلۓ
دور رہ کر تمہاری چوکھٹ سے اشک آنکھوں سے بہتے رہتے ہیں
آپ نبیوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ختم اک آپ پرنبوت ہے
لاج رکھنا شہہ زمن میری التجاہے یہ قلب عشرت کی
— Unknown
اے نام محمد ﷺ صلِ علیٰ سبحان اللہ سبحان اللہ
قرآن اٹھا کردیکھ ذرا معلوم تجھے ہوجاۓ گا
معراج کی شب معلوم ہوا عالم کو تیری رفعت کا پتا
خالق بھی ساتھ فرشتوں کے خود بھیجے درودوں کے تحفے
ہم رات کو شب بھرسوتے ہیں امت کےوہ غم میں روتے ہیں
اعمال نہ دیکھے یہ دیکھا محبوب ﷺ کےکوچے کا ہے گدا
جب میں نے سنائی نعت نبی ﷺ سن ہوگیا مُنکر سنتے ہی
— Unknown
جو دیکھنے میں بڑے دیدہ ورنظر آۓ
وہ آئینہ ہے ترا حسن آئینہ مثال
تجلّیوں میں نہائی ہوئی سحر کی طرح
محیط ہے کئی صدیوں پہ اک وہ لمحہ دید
تو مل گیا تو یہ خواہش بھی مٹ گئی دل سے
ملے خلا و ملا میں ترے نقوش قدم
— Muhammad Azam Chishti\
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
منبر پاک رسولﷺ بھی دیکھا دیکھا خاص مصلیٰ بھی
ریاض الجنت کی خوشبو سے دل کو بھی مہکایا ہے
ہم مہمان بنے تھے انؐ کے عرش پہ جو مہمان ہوۓ
واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے انؐ کی چوکھٹ کو
— Unknown
منگتوں کو سلطان بنایا میرے کملی والے نے
جس پر اپنا رنگ چڑھایا میرے کملی والے نے
مال و زر کی بات نہیں ہےیہ توکرم کی باتیں ہیں
جس کو حقارت سے دنیانے دیکھا اور منہ پھیر لیا
جتنا خرچ میں کرتا جاؤں اُتنا بڑھتا جاۓ ہے
دشمن کی بھی پیاس بجھائی اپنے بھی سیراب ہوۓ
غم کی دھوپ تھی میرے سرپر اور پریشاں حال تھا میں
خود تو ٹھہرے ختم الرسل اور غوث پیا جیلانی کو
صحرا صحرا پھول کھلاۓ نقشِ قدم کی برکت سے
اُن کا تصور کرتے کرتےمیں بھی مدینے جا پہنچا
نعت علیم زباں پر آئی میری قسمت جاگ اٹھی
— Unknown
جس نے نبی ﷺ کی یاد میں دل کو بسا لیا
دونوں جہاں کی نعمتیں حاصل ہوئیں اُسے
ذکر نبی ﷺ میں جس کی بھی گزری ہے زندگی
گھبرا رہا تھا اپنے گناہوں سے حشر میں
چُھوٹا کبھی نہ چُھوٹے گا دامان مصطفیٰ ﷺ
سب رنج وغم ہوں دور سکون قلب ملے
کشتی پھنسی ہوئی تھی بھنور میں نکل گئی
ہوتا وہی قریب ہے اللہ کے اے چراغؔ
— Unknown
جس طرف چشم محمد کے اشارے ہو گۓ
جب کبھی عشق محمد کی عنایت ہوگئی
موجۃ طوفان میں جب نام محمد لے لیا
یا محمد آپ کی نظروں کا یہ اعجازہے
میں ہوں اور یادِ مدینہ اور ہیں تنہائیاں
اپنی کملی کاذرہ سایہ عنایت ہو مجھے
— Saghar Siddiqui\
مدینہ کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنا
محمد ﷺ کی باتیں محمد ﷺ کی سیرت
مدینے کے آقا ﷺ دوعالم ﷺ کے مولا
پہنچ جائیں ہاشم جب ہم مدینے
— Unknown
ہمیں اپنا وہ کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو
وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دعا اکثر
اشارہ جب وہ فرمائیں تو پتھر بول اٹھتے ہیں
وہاں مجرم کو ملتی ہیں پناہیں بھی جزائیں بھی
ہے آقا کی ولادت پر ہوۓ سب کو عطا بیٹے
نمازِ عصر کو قربان کرکے ان کی ہستی پر
حسین ابن علی نے کربلا میں یہ کیا ثابت
زمین وآسماں والے بھی آتے ہیں غلامانہ
— Syed Nasir Hussain Chishti\
بگڑی بھی بنائیں گے جلوے بھی دکھائیں گے
ہم مسجدِ نبوی کے دیکھیں گے میناروں کو
مل جائیں گی تعبیریں اک روز تو خوابوں کی
جب حشر کے میداں میں اک حشر بپا ہوگا
دل عشقِ نبی ﷺ میں تم کچھ اور تڑپنے دو
— Unknown