میں کیسےعالم اشیا سے ماورا سمجھوں
جدا جدا ہے زمانےمیں ہربشرکا خمیر
جو شخص عظمت آدم سےبےخبر ہےابھی
رقم ہے وقت کےسینےپہ حرف حرف ترا
کرن کرن تری طلعت چمن چمن خوشبو
نہ پا سکوں، نہ کبھی چھوسکوں نہ دیکھ سکوں
— Unknown
میں کیسےعالم اشیا سے ماورا سمجھوں
جدا جدا ہے زمانےمیں ہربشرکا خمیر
جو شخص عظمت آدم سےبےخبر ہےابھی
رقم ہے وقت کےسینےپہ حرف حرف ترا
کرن کرن تری طلعت چمن چمن خوشبو
نہ پا سکوں، نہ کبھی چھوسکوں نہ دیکھ سکوں
— Unknown
طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
میں تیری زیارت کے قابل تو نہیں مانا
جو چاہو سزا دینا محبوب ﷺ کے دربانو!
مشکل ہو اگر میرا طیبہ میں ابھی جانا
آقا ﷺ کیلۓ ایسے الفاظ کہاں صائمؔ
— Saim Chishti\
سرکار ﷺ جیا سوہنا آیا اے نہ آنا اے
جی کردا اے مرجاواں جس دن دا اے سنیا اے
دیکھو جی ہر اک شے تے پیا نور برس دا اے
انگلی نوں اٹھاندے نیں نالے چن نوں ہلاندے نے
کوئی سڑادا اے سڑ جاوے کوئی مردا اے مر جاوے
بن جانی اے گل تیری ویکھیں حشر دے دن یارا
— Unknown
ہر جا پہ رحمت ہے سرکار مدینہ کی
اللہ نے بنایا انہیں سلطان ہے نبیوں کا
سب نوری ملائک اور ہر وقت ہے اور اللہ
وہ رحمت پاۓ گا جنت میں جاۓ گا
اس ساری دنیا میں اور قبر ومحشر میں
وہ بندہ اے ثاقبؔ ہے پیارا اللہ کا
— Unknown
اللہ نے تمہیں جتنے ناموں سے پکارہ ہے
طیبہ میں جدھر دیکھو رحمت کا نظارہ ہے
سیرت کا ہر اک پہلو،اعجاز دل آرا ہے
کس ڈھنگ سے اللہ نے تم کو سنوارہ ہے
مازاغ نگاہیں تو مازاغ نگاہیں ہیں
کتنوں کے دماغوں میں تھی عرش کی اونچائی
قرآں کو نہ سمجھے تو کیا سمجھیں گے سیرت کو
— Khawaja Shouq\
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
طوافِ کوچۃ جاناں کے قابل کون سمجھے گا
کہاں میں اور کہاں اس روضۃ اقدس کا نظارہ
مدینے جاکے ہم سمجھے تقدس کِس کو کہتے ہیں
وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
— Iqbal Azeem\
سہارا چاہیے سرکار ﷺ زندگی کے لۓ
حضور ﷺ ایسا کوئی انتظام ہو جاۓ
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جاۓ
میں شاد شاد مروں گا اگر دم آخر
وہ بزم خاص جو دربار عام ہو جاۓ
ادھر بھی اک نگاہ لطف عام ہو جاۓ
ترے غلام کی شوکت جو دیکھ لے محمود
میں قائل آپؐ کے روضے کا وں وہ قائل طور
مدینے جاؤں دوبارہ پھر آؤں پھر جاؤں
بلاؤ جلد مدینے میں ہے امیر کو خوف
تمہاری نعت پڑھوں میں سنوں لکھوں ہر دم
میری نماز جنازہ کی یوں امامت ہو
پیا رضا و ضیا نے پیا جو مرشد نے
— Unknown
مدینے مجھے بھی بلا کملی والے
تری ذات اقدس بہت ذی کرم ہے
یہ سچ ہے بہت ہی گنہگار ہوں میں
وہ ابنِ علی تیرا پیارا نواسہ
سفینہ مرا بحرِ غم میں گھرا ہے
زمانے میں کوئی بھی میرا نہیں ہے
کرم اتنا کر دے مدینہ دکھا دے
— Unknown
اپنے دربار میں آنے کی اجزت دی ہے
آپ کا ذکر کبھی کم نہیں ہو گا آقا
آپ کا نام تو ہر غم کی دوا ہے آقا
میری پلکوں پہ چراغوں نے فروزاں ہو کر
تلخ لہجوں کو جو شائستہ بنا دیتی ہے
معجزہ ان کی صداقت کا ہوا یوں روشن
مجھ سے بے نام و نشاں کو مرے آقا نے صبیح
— Sabeeh Rehmani\
مدینے کے والی ﷺ مدینے بُلا لو
ہاں پیغام لانا میری حاضری کا
تیرے در پہ آؤں میں بن کے سوالی
غریبوں کے مولا ﷺ یتیموں کے والی ﷺ
ادھر بھی نگاہِ کرم ہو خدارا
میری عمر گزرے تیری بارگاہ میں
مقدر میں میرے وہ نوری گھڑی ہو
درِ مصطفیٰ ﷺ پر مری حاضری ہو
نگاہوں میں ہوں سبز گنبد کے جلوے
شب و روز گزریں نیازیؔ کے آقاﷺ
— Abdul Sattar Khan Niazi\