آؤ عاصیو سرکار کا دروازہ کھلا ہے
جو کچھ بھی ہے درکار توجا مانگ لے اُن سے
جو تجھ کو سکوں چاہیے سرکار کے در جا
مۓ پینی ہےجو عشقِ محمدﷺ کی اے یارو
جو گ میں نہیں کوئی تیرا خوف نہ کر تو
پوچھے نہ یہ دنیا تجھے ثاقبؔ نہ تو گھبرا
— Unknown
آؤ عاصیو سرکار کا دروازہ کھلا ہے
جو کچھ بھی ہے درکار توجا مانگ لے اُن سے
جو تجھ کو سکوں چاہیے سرکار کے در جا
مۓ پینی ہےجو عشقِ محمدﷺ کی اے یارو
جو گ میں نہیں کوئی تیرا خوف نہ کر تو
پوچھے نہ یہ دنیا تجھے ثاقبؔ نہ تو گھبرا
— Unknown
ذکرِ توحید ضروری ہے بہت
ہو کسی شکل میں باطل' اس پر
کذب کا چاہۓ فوری ابطال
چاہیۓ اپنا محاسب ہونا
زیست کے رختِ سفر میں کوئی
اختتام اُس کی ثنا کا جو ہو
بے لگامی نہیں دل کی اچھی
وہ ہےرب' تازہ ہراک سانس کے ساتھ
نہیں ہونٹوں کی گواہی کافی
حق کی تصدیق سے غیرِ حق کی
— Riaz Majeed\
میں تلیاں نبی ﷺ دیاں چُمدا جے میں ہُندا خاک مدینے دی
میں لیندا نام محمد ﷺ دا نالے تکدا شان محمد ﷺ دا
جدوں سوہنا ﷺ قدم ٹکاندا سی میرا سینہ لِپھدا جاندا سی
میں ایسی کرنی کر جاندا ویہڑے طیبہ دے وڑ جاندا
میرے نبی ﷺ قرآن سُناندے سن چُپ بیٹھ صحابہ سن دے سن
جتھے میرے نبی ﷺ دا پسینہ پیا اوتھے بوٹا گلاب داسی اُگیا
— Unknown
محمد ﷺ مصطفیٰ سے لو لگانا ہم نہ چھوڑیں گے
نبی کا نام بگڑی کو بنا دیتا ہے پل بھر میں
یہ مٹھی بھر جو منکر ہیں یہ روکیں لاکھ ہم کو مگر
رہیں جلتے عدو سارے رہیں جلتے عدو سارے
یہ بدعت لاکھ کہہ کہہ کر جنم کا بنیں ایندھن
اے ثاقبؔ رب ہے کرتا عطا مگر آقا کے صدقے سے
— Unknown
کعبے کے صحنِ محترم میں بیٹھ
بابِ کعبہ کی سمت ہو یکسو
کچھ پڑاؤ طریقِ ہجرہ میں
لنگر انداز ہو ہواۓ ثنا!
ابر ' لاتقنطوا' کے ساۓ میں
آسمانِ ثنا میں کر پرواز
زرِ مدحت! ریاضؔ عاجز کے
— Riaz Majeed\
بیڑا مدینے والا لَیندا پیا تاریاں
حاجی روضےتےجاندے میں جۓروندے کرلاندے
جند مُک چلی مُکیاں نہ انتظاریاں
شالا اوہ دن وی آوے سوہنا مینوں کول بلاوے
رَل مِل ویکھن روضہ سَیّاں ایہہ ساریاں
آب زم زم میں پیواں اوتھے مراں اوتھے جیواں
صدقہ نواسیاں داسُن لے تو زاریاں
حاجیاں نیں چُمی جالی جالی اوہ کرماں والی
لَکھ پہرےداراں بھانویں چھڑیاں نے ماریاں
حاجیاں نے اٹھ سویرے بہہ کے روضے دے نیڑے
روز و کے سوہنے اگّے عرضاں گزاریاں
— Unknown
آیا شعورِ حق کا رسالت پناہ سے
توحید کو سمجھ نہ دلِ بے نگاہ سے
اقرار جب تک نہ رسالت کا کیجئے
دنیا قرینہ سیکھ رہی ہے حیات کا
اللہ نے ان کے واسطے قبلہ بدل دیا
حق کی نمود، انفس و آفاق کا وجود
بندے میں اور خدا میں ہوئی رسم و راہ شوق
— Khawaja Shouq\
عفو و بخشش کے اے عظیم سراج!
لوح محفوظ اس پہ شاہد ہے
ہم خطا کار، بدنہادوں سے
خود کیا نقشۃ ظہور تباہ
ہم سیہ طبع عاصیوں کے لیے
ہو کرم ہم نشیب خواہوں پر
ہم گنہ خو ہوس پرستوں کی
پیشِ اقوام دہر خوار و زبوں
ملتمس تجھ سے ہے ریاضؔ اس کی
— Riaz Majeed\
اے نورِ ازل اے اوجِ بشر سرکار دوعالم سیدنا
تم حسنِ خدا کا ہو مظہر روشن ہیں تمہی سے شمس وقمر
اے شاہدِ بزمِ کون ومکاں اےجان جہاں اے شاہِ زماں
اے فیضِ مسلسل موج کرم اے ختم رسل اے شمع حرم
ہو لاکھ زمانہ زیر زیر اب مجھکو نہیں کچھ خوف و خطر
اے مالکِ کل بندہ پرور ہوجاۓ شبِ فرقت کی سحر
— Unknown
پہلے پہلے تو وہ مٹی میں سُلا دیتا ہے
کام بِگڑے مِرا اللّٰہ بنا دیتا ہے
پہلے کرتا ہے روانہ کسی بیماری کو
گلسِتانوں کو کبھی روپ خزاں کا دے کر
بے بصَر کو وہ بصارت کا خزانہ بخشے
سلسلہ ہاٸے گُنہ پر کرَمِ ناز و نِعَم
آدمیّت کو شرَف یاب کرے تو ازہر
— Awais Azhar Madni\