پھرتےہیں نظرمیں درودیوارِمدینہ
یہ نور کی بستی ہے کہ جلوں کا نگر ہے
ہر سانس میں بو باس ہے حُبِ نبوی کی
پابند ادب چاہۓ سانس اور نظر بھی
دل کیوں نہ ہو معمور شہِ دیں کے کرم سے
گزرے ہیں اسی رہ سے خراماں شہِ والا
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
پھرتےہیں نظرمیں درودیوارِمدینہ
یہ نور کی بستی ہے کہ جلوں کا نگر ہے
ہر سانس میں بو باس ہے حُبِ نبوی کی
پابند ادب چاہۓ سانس اور نظر بھی
دل کیوں نہ ہو معمور شہِ دیں کے کرم سے
گزرے ہیں اسی رہ سے خراماں شہِ والا
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\