ردیف و قافیہ سے میں نے کی ہے حمد کشید
وہ خوش ہے تجھ سے تو ہے واشگاف تجھ پہ جہاں
گواہ دھڑکنیں دل کی، ترے کرم کی ہیں
بیان کیا کریں؟ وَا حسرتا! ہزار افسوس
کرے گا پاس تُو کچھ میری خوش گمانی کا
تُو مجھ کو حشر کے دن بخش دے بغیر حساب
ہو میرا بخت' شفاعت رسول رحمت کی
تُومجھ کو حشر کے دن بخش دے بغیرِ حساب
ہو میرا بخت' شفاعت رسول رحمت کی
خوشا نصیب ہو جنت میں داخلے کا دن
بھلی ہے ان دنوں حُب پروروں کے حلقے میں
— Riaz Majeed\
