زندگی اُن سے بچھڑ جائے یہ منظور نہیںکاٹ دے سر کوئی میرا ، یہ گوارا ہے مجھے
اُن کے ناخن پہ خراش آئے یہ منظور نہیںہم غریبوں کا درودوں پہ گزارا ہے فقط
ہم سے چھن جائیں یہ سرمائے یہ منظور نہیںرحمتیں آپ کی سیراب کئے رکھتی ہیں
کوئی دریا ہمیں تر سائے یہ منظور نہیںنبض چلتی ہے تو آقاؐ سے اجازت لے کر
د ے ہمیں اور کوئی رائے یہ منظور نہیںاپنی سانسوں سے ہمیں بوئے محمدؐ آئے
مختلف اُن سے ہوں پیرائے یہ منظور نہیںاِس جہاں میں ہو مظفر کہ ہو اُس دنیا میں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
