صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے
نہ بات مجھ سے گل خلد کی کر اے زاہد
یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد
یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی
فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے
جو ہیں مریض محبت یہاں چلے آئیں
کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً
نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا
پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
