سرکار کے قدموں پہ یہ سر کیسا لگے گا
بتلاۓ کوئی جب ہو تصور میں مدینہ
اللہ کرےمیرا مدینےمیں ہو مسکن
سرکار کےدروازےپہ کس طرح میں مانگوں
جس در پہ ہے منگتوں کےلۓ مرنا بھی جینا
یہ زیست کے لمحات گزر جائیں گےلیکن
میں سوچتا رہتا ہوں انہیں پیش کردوں کیا
کچھ مانگنے کی قید نہیں گرچہ نیازیؔ
— Unknown
