سرور سے دل لہک رہا ہے درود سے روح کِھل اٹھی ہے
ہوا اسی کی مکاں مکاں ہےصدا اسی کی گلی گلی ہے
کہاں علم کوئی دھر سکے گا کہاں کوئی مدح کرسکے گا
مآل رسوا کسے دکھاؤں سکوں کے لمحے کہاں سے لاؤں
ہوس کی وادی گماں کا صحرا کہاں کہاں سرگرداں رہے ہو
درود کی لَے سے لَے ملا کر اک آدمی مدح کر رہا ہے
— Syed Tabish Alwari\
