تم سے جو گریزاں ہے فرزانہ وہ دیوانہ
آجا دلِ ویراں میں تیرا ہو یہ کاشانہ
آنکھوں سے پِلا وہ مے سرمست رہوں جس سے
وہ ابرِ بہار آیا ہر شے پہ نکھار آیا
کیا رات کے پردے سے چپکے سے سحر نکلی
بدکار صحیح لیکن بندہ ہوں تیرے در کا
یوں تھام کے دامن کو مچلا ہے سرِ محشر
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
