شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو
ڈیوڑھی کا اپنی کتا بنالو
صدقے میں صدقے میں صدقے بلالو
پیارے جلالو مجھے پیارے جلالو
دنیا کے جھگڑوں سے یکسر چھڑا کر
شاہِ والا مجھے اپنا بنالو
نیکوں کے صدقے میں ہم سے بدوں کو
مولیٰ نبھالو مرے مولیٰ نبھالو
ہوتے ہو تم کیوں مایوس و مضطر
دکھ درد والو سنو دکھ درد والو
دارُالشفائے طیبہ میں آؤ
اَندوہ و غم سب اپنے مٹالو
آنکھوں میں آؤ دِل میں سماؤ
حسرت زَدہ کی پیارے دُعا لو
بادِ مخالف تیز آرہی ہے
منجدھار میں ہے مولیٰ بچالو
ڈولت ہے نیا موری بھنور میں
موری َکھبریا مورے پیا لو
تائب ہوں نجدی آئب ہوں نجدی
غائب ہوں نجدی مولیٰ نکالو
یہ نوریؔ مُضطَر تیرا ثناگر
اپنے گداگر کو دَر پر بلالو
— Mustafa Raza Khan Noori\
