سنَّت کی بہار آئی فیضانِ مدینہ میں
اِس شہر کے آئے ہیں باہر سے بھی آئے ہیں
داڑھی ہے عِمامے ہیں زُلفوں کی بہاریں ہیں
لمحاتِ مَسرَّت ہیں دیوانے بڑے خوش ہیں
سنّت کی بہاروں کا کچھ ایسا سماں چھایا
اُلفت کے اُخُوّت کے کیا خوب مناظر ہیں
وہ لوگ ہی آتے ہیں اور فیض اُٹھاتے ہیں
اپنے ہوں یا بیگانے یوں ملتے ہیں دیوانے
درد اپنے دلوں میں جو اسلام کا رکھتے ہیں
اللہ کرم کر دے تُو بخش دے ان سب کو
سنّت کا لئے جذبہ آئے جو یہاں اُس کی
ابلیسِ لعیں سن لے اب خیر نہیں تیری
فیضانِ مدینہ میں فیضانِ مدینہ ہے
فیضانِ مدینہ ہی ہے دعوتِ اسلامی
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
آقا ہو کرم سب پر بُلواؤ مدینے میں
سرکار عطا کر دو غم سب کو مدینے کا
قسمت کا سکندر ہے زوروں پہ مقدَّر ہے
آج آقا کے دیوانے کیا مَست ہیں مستانے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
