تم بات کرو ہو نہ ملاقات کرو ہو
جو راہیں تیرے دیس کو نہ جاویں ہیں ویراں
بیٹھے ہیں سبھی سیج سجائے تیرے کارن
دنیا تیرے مانگت کی بھکارن ہے مہاراج
رتین میں کھلے رکھتے ہوں اکھین کے دریچن
تلوار کی حاجت ہو بھلا تم کو تو کیوں کر
کتنے ہی لگے پھرتے ہیں ساجن تیرے مانگت
جو نیست تھی تکنے سے ترے ہو گئی ہستی
رت پریم کے درداں کی کبھو بیت چکی طاہؔر
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
