ترا جلوہ نورِ خدا غوثِ اعظم
مجھے بے گماں دے گما غوثِ اعظم
خودی کو مٹادے خدا سے مِلادے
خودی کو گماؤں تو میں حق کو پاؤں
خدا ساز آئینۂ حق نما ہے
خدا تو نہیں ہے مگر تو خدا سے
نہ تو خود خدا ہے نہ حق سے جدا ہے
تو باغِ علی کا ہے وہ پھول جس سے
ترا مرتبہ کیوں نہ اعلیٰ ہو مولیٰ
ترا رُتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر سروں پر
ترا دامنِ پاک تھامے جو رَہزن
نہ کیوں مہرباں ہو غلاموں پہ اپنے
ترے صدقہ جاؤں مری لاج رکھ لے
پریشان کر دے پریشانیوں کو
مری کشتی چکرا رہی ہے بھنور میں
خدارا سہارا سہارا خدارا
ارے مورے سیاں پڑوں تورے پیاں
خطائیں ہماری جو حد سے سوا ہیں
خطا کاریاں گرچہ حد سے بھی اپنی
ہماری خطا کو تمہاری عطا سے
تو رحم و کرم کا ہے بے پایاں دَریا
یہ اِک فردِ عصیاں ہے کیا تیرے آگے
ترا ایک ہی قطرہ دھو دے گا سارا
تو بیکس کا کس اور بے بس کا بس ہے
مری جان میں جان آئے جو آئے
مری جان کیا جانِ ایماں ہو تازہ
مرا سر تری کفش پا پر تصدق
جھلک رُوئے اَنور کی اپنی دکھا کر
— Mustafa Raza Khan Noori\
