آواز دے کے خود ہی سویرا بُلائے گالیتے رہے جو تیرے اُصولوں سے مشورے
منزل کی سمت راستہ تیرا بُلائے گاہم پہلے تُجھ سے دُھوپ میں کھلنا تو سیکھ لیں
پھر چھاؤں میں بھی ابر گھنیرا بُلائے گابنیاد میں بھریں ہم اگر تیری آہٹیں
بے گھر مسافروں کو بسیرا بُلائے گابعیت اگر نہ کی گئی ظالم کے ہاتھ پر
تو خود ہی روشنی کو اندھیرا بُلائے گااپنوں کی سازشوں سے اگر باخبر رہے
دھو کے سے پھر نہ کوئی لٹیرا بُلائے گاتن پر لہُو پہن کے مظفّر چلے اگر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
