تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
سرشار مجھے کر دے اک جام لبالب سے
دل اپنے چمک اٹھیں ایمان کی طلعت سے
کیوں زلف معنبر سے کوچے نہ مہک اٹھتے
ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری
سنگِ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی
معمور اسے فرما ویراں ہے دلِ نوری
— Mustafa Raza Khan Barelvi\
