تم ہو حسرت نکالنے والے
میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا
تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے
لب جاں بخش سے جلا دِل کو
دستِ اَقدس بجھا دے پیاس میری
ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں
روزِ محشر بنا دے بات مری
بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو
ختم کردی ہے اُن پہ موزونی
ان کا بچپن بھی ہے جہاں پرور
پار کر ناؤ ہم غریبوں کی
خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا
کام کے ہوں کہ ہم نکمے ہوں
زَنگ سے پاک صاف کر دل کو
خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
