تم ذات خداسے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطاہو وہ عطا ہو
جس بات پہ مشیورِجہاں ہے لبِ عیسیٰ
ٹوٹےہوۓ دم جوش پہ طوفان معاصی
مٹی نہ ہوبرباد پسِ مرگ، الہٰی
منگتا تو ہے منگتاکوئی شاہوں میں دکھا دے
قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان کی جبیں پر
ہروقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے
سو جاں سے گنہگارکا ہورختِ عمل چاک
ابرارنیکوکارخدا کے ہیں خدا کے
اے نفس انہیں رنج دیااپنی بدی سے
اللہ یونہی عمر کابھی اداہو نہیں سکتا
شکر ایک کرم کا بھی ادا ہونہیں سکتا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
