اُمنگیں جوش پر آئیں اِرادے گدگداتے ہیں
جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دَم بھر میں
انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرشِ اعظم کا
مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکر
خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا
شہِ طیبہ یہ قوت ہے ترے دَر کے گداؤں میں
مرے مولیٰ یہ قوت ہے ترے دَر کے گداؤں میں
مَدینے کی طلب میں جو نہیں لیتے ہیں جنت کو
تصدق جانِ عالم اس کریمی اور رحیمی کے
وَہابی قادیانی گاندھوی و نیچری سب کی
جمیلؔ قادری کو دیکھ کر حوروں میں غل ہوگا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
