دل کو اُنکی گفتگو سے مُشکبو کرتے رہےروح میں جو چاک اۓ تھے گناہوں کے سبب
سوزنِ ذکرِ پیمبرؐ سے رفُو کرتے رہےرات بھر مدحت سرائی تھی وہاں محبوب کی
رات بھر ہم لوگ آنکھوں کا وضو کرتے رہےمیں تصور میں کھڑا تھا اپنے آقاؐ کے حضور
شہر بھر میں لوگ میری جستجو کرتے رہےہم کہاں عزت کے قابل تھے مگر بستی کے لوگ
نعت کے صدقے ہماری آبرو کرتے رہےخوبئ قسمت کہ ہم کو وہ نبی بخشا گیا
