مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو
اپنے اچھوں کا تَصَدُّق
کس کے پھر ہو کر رہیں ہم
بَد ہنسیں تم اُن کی خاطر
بد کریں ہر دم برائی
ہم وہی ناشُسْتَہ رُو ہیں
ہم وہی شایانِ رَد ہیں
ہم وہی بے شرم و بد ہیں
ہم وہی نَنگِ جَفا ہیں
ہم وہی قابل سزا کے
چَرخ بدلے دَہر بدلے
اب ہمیں ہوں سَہْو حاشا
عمر بھر تو یاد رکھا
وقتِ پیدایِش نہ بھولے
یہ بھی مولیٰ عرض کر دوں
وہ ہو جو تم پر گِراں ہے
وہ ہو جس کا نام لیتے
وہ ہو جس کے رَد کی خاطر
مر مٹیں برباد بندے
شاد ہو اِبلیس مَلْعُوں
تم کو ہو وَ اللہ تم کو
تم کو غم سے حق بچائے
تم سے غم کو کیا تعلق
حق درُودیں تم پہ بھیجے
وہ عطا دے تم عطا لو
بر تو اُو پاشَدْ تو بر ما
کیوں رضاؔ مشکل سے ڈریئے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
