ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
خواب میں دیکھوں اگر دافِعِ غم کی صورت
آبلے پاؤں میں پڑ جائیں جو چلتے چلتے
تم اگر چاہو تو اِک چین و جبیں سے اپنی
نامِ والا ترا اے کاش مثالِ مجنوں
تیرا دِیدار کرے رحم مجسم تیرا
آپ ہیں شانِ کرم کانِ کرم جانِ کرم
اِک اِشارہ ترے اَبرو کا شہِ ہردوسرا
آپ کا مثل شہا کیسے نظر میں آئے
موم ہے ان کے قدم کے لیے دل پتھر کا
خواب میں بھی نہ نظر آئے اگر تم چاہو
اے سحابِ کرم اِک بوند کرم کی پڑجائے
جب سے سوکھے ہیں مرے کشت اَمل باغِ عمل
صفحۂ دِل پہ مرے نامِ نبی کندہ ہو
تیری تصویر کھنچے رُوحِ منوّر کیوں کر
آئیں جو خواب میں وہ ہو شبِ غم عید کا دن
جائیں گلشن سے تو لٹ جائے بہارِ گلشن
بھیڑ کو خوف نہ ہو شیر سے جو تم چاہو
کوہ ہوجائیں اگر چاہو تو سونا چاندی
صورتِ پاک وہ بے مثل ہے پائی تم نے
دَم نکل جائے مرا راہ میں ان کی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
