حسرت بھرے دلوں سے ہم آئے ہیں لوٹ کر
اچّھا لگے گا اب ہمیں کیسے وطن میں گھر
ہم کو تو اِس لئے ہے مدینہ عزیز تر
ایساسُکون جا کے میں ڈھونڈوں گا اب کدھر!
وہ سبز گنبد اور وہ مینار چُھٹ گئے
میٹھا مدینہ ہائے! نگاہوں سے چھپ گیا
دل خون اُگل رہا تھا مرا ہجرِ شاہ میں
اشکوں کی لگ گئی تھی جھڑی میری آنکھ سے
کُوچے میں شاہِ کون و مکاں کے سُکون تھا
بہتر ہے موت فُرقتِ طیبہ سے بالیقیں
روتا رہوں تڑپتا رہوں چین ہی نہ آئے
سوزو گداز اِس کی فَضاؤں میں چار سو
مجھ کو بقیعِ پاک میں دوگز زمین دو
دنیا کے رنج مَیٹ کے غم اپنا دے اِسے
عطارؔ کر رہا ہے یہ رو رو کے التجا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
