ان کی چوکھٹ ہوتو کاسہ بھی پڑا سجتا ہے
شہنشاہوں کے مقدر میں کہاں زیبائی
سرورِ دیں کے مصلے پہ خدا جانتا ہے
ایسے آقا ہوں تو لازم ہے غلامی پہ غرور
کان میں حّر کے مقدر نے یہ سرگوشی کی
مولیٰ شبّر سے خدا جانے سخی مہدی تک
دیکھ کر بولے یہ صدیق و عمر طیبہ میں
مجھ سے کہتے ہیں یہی اہل محبت سرور
— Sarwar\
