Woh Din Bhi The (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

نہ کائنات کی آنکھیں نہ وقت کا دل تھابدی کا غلغلہ تھا ظلم پر جوانی تھی

درندگی و جہالت کی حکمرانی تھیگمان و وہم کا نام اعتبار رکھا تھا

خدا کو مورتیوں میں اتار رکھا تھاکوئی نظارہء دلکش نہ تھا نظر کے لیے

ترس رہا تھا جہاں افضل البشر ؐ کے لیےورود خاور نو آمنہ کے گھر میں ہوا

نبیؐ کا حسن بھی شامل ہر اک سحر میں ہوافرشتے آپؐ کو جھولا جھلانے آتے تھے

درود پڑھتے ہزاروں زمانے آتے تھےپلٹ کے چاند اسی سمت سے فدا ہوتا

جدھر اشارہء انگشت مصطفےؐ ہوتاوہ بکریاں بھی بڑے ہی نصیب والی تھیں

جو فیضیابِ حصارِ حضورؐ عالی تھیںبڑے ہوئے تو کیا کاروبار کپڑے کا

بنائے عقد بنا کاروبار کپڑے کامرے حضورؐ پہ جب وحیِ اولیں اتری

دلِ خدیجہ پہ بھی روشنیِ دیں اتریکیا علی نے بھی اقرار یار غار کے بعد

قدم قدم پہ بہار آئی پھر بہار کے بعدخدا کا نور جو فاران سے طلوع ہو ا

تو ایک سلسلہ اسلام کا شروع ہوااحد حد کی صدا آئی جب زبانوں پر

تو بجلیاں سی گریں کفر کے ٹھکانوں پرکمانِ ظلم سے بو جہل و بو لہب نکلے

دعائیں ہاتھ میں لے کر شہ ِعرب نکلےستم مگر ابوسفیان نے بھی کم نہ کئے

بلال و زید نے سراپنے پھر بھی خم نہ کئےنبی نےظلم سہے ساتھیوں نے ظلم سہے

مگر بہ حکم خدا صبر کی حدوں میں رہےہر اک مصیبت و تکلیف بے دریغ اٹھائی

کسی سے ظلم کا بدلہ لیا نہ تیغ اٹھائیجنہیں شعور نے ایمان کی حرارت دی

انھیں حضورؐ نے فردوس کی بشارت دیکہا یہ آپ نے ، اک روز وہ بھی آئے گا

تمہارے پاؤں تلے ہوں گے قیصر و کسریٰقبائل آتے رہے اور دین پھلتا رہا

چراغ مصطفویؐ آندھیوں میں جلتا رہازباں پہ ، اپنے دلوں کی محبتیں لے کر

وفود آئے مدینے کی دعوتیں لے کربنام شعب ابی طالب بھی ایک گھاٹی تھی

خدا کے بندوں کی جس نے حیات چاٹی تھیجب ان کی بات رسولؐ خدا نہیں مانے

تو مل کے عہد کیا مشرکین مکہ نےنبی سے اور نبیؐ کے ہر اک صحابی سے

کسی بھی قسم کا کوئی نہ واسطہ رکھےصحابیوں کے شکم سوکھ سوکھ جاتے تھے

تو اپنی مشکوں کے چمڑے بھگو کے کھاتے تھےعجیب ظلم و ستم کے محاصرے میں رہے

کہ دو برس وہ معاشی مقاطعے میں رہےمصیبتوں کا انہوں نے پہاڑ کاٹ لیا

تو اس معاہدے کو دیمکوں نے چاٹ لیابہ اذن سرور کونین، جعفر طیار

گئے جو حبشہ تو پہنچا دیئے گئے دربارنجاشی بولا بتاؤ تمہارا دین ہے کیا؟

کلام کیا ہے ، نبیؐ پر تمہارے جو اتراسنائی حضرت جعفر نے سورۃ مریم

تو سن کے آنکھ نجاشی کی ہوگئی پر نمکہا امن و سکوں ہے یہاں ، یہیں پہ رہو

وفا کے گھر میں محبت کی سرزمیں پہ رہونجاشی جیسا بھی کم ہوگا خوش نصیب کوئی

نماز اس کے جنازے کی مصطفےؐ نے پڑھائیمقام حجر پہ اک روز جمع تھے کفار

اسی طرف نکل آئے تو گھر گئے سرکارپکڑ لیا انہیں چادر سمیت دشمن نے

اچھال دی مرے آقا، پہ ریت دشمن نےلگائے زخم جو جسمِ نبیِؐ رحمت پر

تو چیخ چیخ اٹھے بو بکر اس اذیت پرنبیؐ کے قتل کے منصوبے سینہ سینہ ہوئے

تو حکمِ حق سے نبیؐ عازمِ مدینہ ہوئےنکل کے مکے سے جب شاہِ کائنات چلے

عقب میں آپ کے دشمن بھی ساتھ ساتھ چلےپڑاؤ آپ نے جب غار ثور میں ڈالا

تو منھ پہ غار کے مکڑی نے بن دیا جالاذرا جو خوف ابوبکر کو ہوا ضمنا

بڑے سکوں سے کہا مصطفےؐ نے ، لا یحزنمدینہ پہنچے تو سب خیر مقدی آئے

ہر اک زبان پہ تھا، چاند سے نبیؐ آئےمہاجروں سے وہ انصار نے سلوک کیا

مثال لا نہ سکی جس کی آج تک دنیادھڑکنے لگ گئے دہ دل ہر ایک سینے میں

دکھائی دینے لگا مکہ بھی مدینے میںزمین بانٹ لی آپس میں ، گھر بھی بانٹ لئے

محبتوں کی طرح مال و زر بھی بانٹ لئےسبھی رضائے خدا و نبیؐ کے تھے بھیدی

کسی کے پاس تھیں دو بیویاں تو اک دے دیتمام چہرے بنامِ رسولؐ کھلنے لگے

سیاہیوں میں اجالوں کے پھول کھلنے لگےکچھ ایسے سیدھا کیا ہر طبیعتِ کج کو

ملا دیا مرے آقا نے اوس و خزرج کوہوا یہ فیصلہء خوشنما بھی غیر کے ساتھ

رہیں گے مل کے مسلماں بنو نضیر کے ساتھرگِ تحفظِ طیبہ میں خون بھرنےکا

معاہدہ ہوا مل کر دفاع کرنے کابرائیوں کا تصور خروج کو پہنچا

نصیب خلق و شرافت عروج کو پہنچاہوا دیار نبی ؐ فتح تو یہ بولے نبی ؐ

نہ ہوگی آج کسی سے بھی باز پرس کوئینہ ہو وہ خوف زدہ جس نے ہم پہ کی بیداد

خدا گواہ کہ ہر شخص آج ہے آزادمعاف کرتا ہوں ہندہ کو ، وہ بھی اب نہ ڈرے

مگر یہ کہہ دو مرے سامنے نہ آیا کرےجو گھر میں ہو ابو سفیان کے اسے بھی اماں

تیرے تیور، میرا زیور

تیرا شیوہ، میرا مسلک

مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا

جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں