یہ وہ محفل ہے جس میں اَحمد مختار آتے ہیں
زیارت کے لیے بن کر مَلک زوَّار آتے ہیں
غلامانِ شہِ دِیں بزم میں یوں آتے ہیں جیسے
وہ لیجاتے ہیں بخشش کی سند سرکارِ طیبہ سے
چلو ہے میزبانی جوش پر سرکارِ طیبہ کی
نگاہِ کور باطن قاصر و مجبور ہے لیکن
منافق جانتے ہیں شرک گر اس بزمِ اَقدس کو
مخالف بے اَدب اس ذِکر کی رِفعت کو کیا سمجھے
قیامِ محفلِ مولد سے جلتے ہیں بہت منکر
یہ اُن کے سبز گنبد پر بخطِ نور لکھا ہے
اُٹھے گا شور محشر میں گنہگارو نہ گھبراؤ
خریدیں گے جو رحمت کے عوض اَنبار عصیاں کے
جو کہتے ہیں مصیبت میں اَغِثْنِیْ یَارَسُوْلَ اللہ
شبِ تاریک مرقد سے نہ گھبرائے دِلِ مُضْطَر
خداوندا دَمِ آخر یہ عزرائیل فرمائیں
— Jamil Ur Rehman Qadri\
