یوں گانجتا دوامِ محمدؐ سنائی دے
یہ کائنات جسم، اس کی جاں حضورؐ ہیں
خواہش سےاپنی وہ تو کبھی بولتےنہیں
وہ میم جس کےشہد سارس گھولتےہیں وہ
کوئی سنےجوگوشِ حقیقت نیوش سے
مطربنےچھیڑا ساز وہ لےمیں حجاز کی
اس منتظرؐ کو آۓگو صدیوں گزرگئیں
محرابِ دل میں آج بھی ہے جس کی بازگشت
خالق کی بارگہ میں توسل سے آپؐ کے
— Zia Nayyer\
