زمیں کے لوگ ہوں یا اہلِ عالمِ بالا
تِرے قلم کی گواہی ، مرقّعِ عَالَم
دِیے حسین خدو خال تُو نے مٹّی کو
تھمائی مہر کو لَیل و نہار کی ڈوری
زمینِ تِیرہ کے مُنہ سے لگا دِیا تُو نے
پڑھے قصیدہ وحدت ، ہجومِ کون و مکاں
مُجھے ہی تُونے دیا اِختیارِ لغزش بھی
اُتار کر مِرے سِینے میں آگہی کے چانّد
ہر ایک سانّس کو میری ، بنا چراغِ حرم
— Muzaffar Warsi\
