ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہوں گے
بوۓ گل اس لۓ پھرتی ہے چھپاۓچہرہ
اس طرف بارشِ انوارِ مسلسل ہو گی
ہم بھی پہنچیں گے شہِ ارض و سما کے درپر
ارضِ طیبہ تجھے دیکھےکوئی بادیدۃ دل
ایک میں کیا مرے شاہا کہ شہنشاہوں کے
لوگ تو حسنِ عمل لےکےچلےروزِ حساب
اُٹھ گئی جب تری جانب وہ کرم بار نظر
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
