ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے تہہِ افلاک
جب قبر میں پرسش کے لیے آئیں نکیرین
جس دم وہ غلاموں کو پکاریں سرِ محشر
ویسے تو کہاں قابلِ بخشش مرے اعمال
ٹھہرے وہ بس اک اشکِ ندامت کے برابر
جو ڈھانپ لے سب اپنی غلاموں کی خطائیں
— Aqeel Abbas Jafri\
