اللہ کی رَحمت سے پھر عزمِ مدینہ ہے
چند اَشک، نَدامت کے ہے زادِ سفر میرا
گو راہِ مدینہ پر میں چل تو پڑا ہوں پَر
صدقے میں محمد کے دے بخش اُسے یارب
اے نُورِ خُدا آکر چمکادو پئے مرشِد
جسمانی مریضوں کو اللہ شِفا دیدے
تم جانتے ہو کیا ہے یہ دعوتِ اسلامی
سرکار کی سُنَّت کی تبلیغ کئے جاؤ
ہر دم مِرے ہونٹوں پر بس ذِکرِمدینہ ہو
عُشّاق تڑپتے ہیں یادِ شہِ بَطْحَا میں
محبوب کا مستانہ سرکار کا دیوانہ
غم میٹھے مدینے کا اے کاش! کہ مل جائے
تُو کر دے عطا مجھ کوروتی ہوئی آنکھیں اور
افسوس مَرَض بڑھتا جاتا ہے گناہوں کا
دُنیا کا گلستاں کیا جنت کی مہک سے بھی
روتا ہوا پہنچا تھا روتا ہوا لَوٹا تھا
دولت کی فِراوانی ہے مانگنا نادانی
عشّاق کی نظروں میں ویران گلستاں ہیں
عطّار کو گر تُو بھی ٹھکرا دے کہاں جائے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
