ذرے ذرے پہ چھایا ہوا نورہے میرےمیٹھے مدینے کی کیا بات ہے
نور پھولوں میں ہےنور کلیوں میں ہےنور بازارمیں نور گلیوں میں ہے
ہرطرف رحمتوں کی ہےچھائی گھٹا مہکی مہکی ہے کیا خوب مدنی فضا
باغ طیبہ میں رہتی ہے ہردم بہار آکے دیکھو یہاں کا سماں خوشگوار
خاکِ طیبہ میں رکھی ہے رب نے شفا ساری بیماریوں کی ہے اس میں دوا
آس مجھ کو تمہارے کرم کی شہاﷺ بھیک دےدے مجھے اپنے غم کی شہاﷺ
پھرمدینے کا رنگین گلزار ہودرپہ حاضر تیرے سگِ عطارؔ ہو
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
