ضِیاء پیر و مرشِد مرے رہنما ہیں
کلی ہیں گلستانِ غوثُ الوَرٰی کی
شریعت طریقت ہو یا معرِفت ہو
سہارا ہیں بے کس کا، د کھیوں کے والی
خد ا کی مَحَبَّتسے سرشار ہیں وہ
مِلا سبز گنبد کا قسمت سے سایہ
بلالو مجھے اپنے قدموں میں اب تو
مجھے رُوئے زیبا ذرا پھر دکھا دو
تصوُّر جماؤں تو موجود پاؤں
نہ کیوں اہلِ سنّت کریں ناز ان پر
مُنَوَّر کریں قلبِ عطارؔ کو بھی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
