سرکار پھر مدینے میں عطّارؔ آگیا
تم بخشوا دو ہر خطا صَدقہ حُسین کا
راضی ہمیشہ کیلئے ہو جایئے شہا!
ہوتی ہیں رات دن یہاں رَحمت کی بارِشیں
دولت کی تاج و تَخت کی آقا نہیں طلب
اس کی بلائیں ٹل گئیں غم دور ہوگئے
آقا غمِ مدینہ میں بے حال کیجئے
دل بیقرار دو مجھے آنکھ اشکبار دو
سوزِ جگر عطا کرو سینہ فِگار دو
اے کاش! یاد میں تِری رونا نصیب ہو
مَرضِ گناہ سے مجھے دے دیجئے شِفا
مجھ کو بقیعِ پاک میں دو گز زمین دو
ہے زائرِ مدینہ شَفاعت کا مستحق
عاصی پہ کیجئے کرم اے شافِعِ اُمم
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
