عطّاؔر نے دربار میں دامن ہے پَسارا
چمکا دو شہا! میرے مقدَّر کا ستارا
میں سالِ گُزَشتہ بھی تو آیا تھا مدینے
مکّے کی حسیں شام کی دیکھوں میں بہاریں
مایوس نہیں تم سے یہ دیوانے تمہارے
تاخیر ہوئی جاتی ہے کیوں کوچ میں آخِر؟
بگڑا ہوا ہر کام سنور جائے گا میرا
سرکار! مدینے میں اِسی سال بُلالو
یارب ہمیں مکے کی فَضاؤں میں بُلالے
ہو جائے مِری حاضِری عرفات و مِنٰی میں
جو ہجرِ مدینہ میں تڑپتے ہیں شب و روز
کس طرح مدینے میں مِرا داخِلہ ہوگا
اے کاش! مِری آنکھ ہو دیدار کے قابل
مرنے دو مدینے میں مجھے قافِلے والو
ہم جائیں کہاں اور شہا کس کو پکاریں
دُکھیوں کا نہیں تیرے سوا کوئی بھی ہَمدَم
گو بد ہوں گنہگار ہوں بدکار بُرا ہوں
ہم کیوں کریں حُکّام کی اُمرا کی خوشامد
شیطان نے بہکا کے گناہوں میں پھنسایا
عِصیاں کے سمندر میں پھنسی ناؤ ہماری
افسوس! گناہوں سے ہے پُر نامۂ اعمال
عطارؔ کا بس آپ کے ہاتھوں میں بھرم ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
