ہے ذِکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا
ہر چیز کا تو ناظر اور ہر مکاں میں حاضر
ہر آنکھ دیکھتی ہے تیرے ہی رُخ کا جلوہ
تو نائبِ خدا ہے محبوبِ کبریا ہے
مالک تجھے بنایا مخلوق کا خدا نے
تیرے خدا نے تجھ کو قدرت ہر اک عطا کی
بٹتا ہے دوجہاں میں تیرے ہی گھر سے باڑا
اے لمبے لمبے ہاتھوں سے بھیک دینے والے
اے پیاری پیاری زُلفوں والے نظر ادھر بھی
اے مجرموں کو اپنے دامن میں لینے والے
نورانی جالیوں میں تشریف رکھنے والے
فریاد سننے والے لِلّٰہ شاد کردے
کیا خوب ہو جو مجھ سے آکر صبا یہ کہہ دے
دستِ عطا میں تیرے رحمت کی ُکنجیاں ہیں
اِنس و مَلک کو کیا ہو معلوم تیری رِفعت
چوتھے فلک پہ عیسیٰ اور طور پر تھے موسیٰ
تو پیشوا ہے سب کا سب مقتدی ہیں تیرے
رَستہ ہے عرش و کرسی اور لامکاں مکاں ہے
دشمن ترا اسی دَم محبوب ہو خدا کا
یا شاہ تیرا منکر مردُودِ ایزَدی ہے
دشمن گھٹائیں جتنی عزت بڑھے گی اُتنی
راتوں کو روتے روتے دریا بہائے تو نے
جب قبر میں فرشتے پوچھیں کہ تو ہے کس کا
دُشوار گو بہت ہے راہِ صراط لیکن
وہ دن خدا دکھائے تجھ کو جمیلِؔ رَضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
