ہوا ہے جلوہ نما وہ نگار آنکھوں میں
نقاب اُٹھ گیا کیا رُوئے ماہِ طیبہ سے
نظر میں ایسا سمایا ہے گلشن طیبہ
عروج پر ہو ہمارا ستارۂ قسمت
تمہارے عارِضِ پرنور دیکھنے کے لیے
پروئے جاتے ہیں مژگاں میں وقتِ ذِکر نبی
ہے وقتِ نزع تسلیٔ جانِ مُضْطَر ہو
نہ کیوں لحد مری جنت کا اِک مکاں بن جائے
جنہوں نے دیکھا تمہارا جمال ایک نظر
میں لیکے کیا کروں گلہائے خلد اے زاہد
پسند اور نہیں کچھ بھی جز تصوّرِ یار
زمینِ طیبہ کو یوں فخر ہوگیا حاصل
یہ کس نے نامِ مَدینہ لیا مرے آگے
مہِ مَدینہ کا دیکھا نہ چہرۂ اَنور
زمینِ طیبہ نہ کیوں آسماں سے اُونچی ہو
رضا کے ہاتھ سے پی ہے جمیلؔ نے وہ مے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
