پار بیڑا لگائے آل رسول
جو ہیں اپنے پر ائے آل رسول
ٹھوکروں پہ نہ ڈال غیروں کی
تیرا باڑا ہے بٹ رہا جگ میں
جھولی پھیلائے ہے تِرا منگتا
دے دے چُمکار کر کوئی ٹکڑا
دَر سے اپنے نہ کر اُسے دُر دُر
دُور دوری کا دَور دَورا ہو
نگھرے در بدر بھٹکتے ہیں
تلخیاں ساری دور ہوجائیں
ہیں رضا غوث کے قدم بَقدم
جس نے پایہ تمہارا پایا ہے
اپنی قدموں کے نیچے ہے جنت
ان کی سیرت ہے سیرتِ نبوی
ان کے جلووں میں ان کے جلوے ہیں
آتے دیکھیں جو اعلیٰ حضرت کو
ہے بریلی میں آج مارہَرہ
قادِرِیُّوں کا ہے لگا میلہ
نوری مَسْنَد پہ نوری پُتلا ہے
چتھر رحمت کا شامیانہ ہے
ہیں پروں سے کیے ہوئے سایہ
ہیں گھٹا ٹوپ رحمتیں چھائیں
غوث کا ہاتھ ہے مریدوں پر
برکاتی برکات کا دولہا
برکاتی پیار کا سہرا
قادِرِیَّت دلہن بنی ، نَوشَہ
نور کا حلہ جوڑا شاہانہ
نور کی چہرے پر نچھاور ہے
بیل میری بھی اب مندھے چڑھ جائے
— Muhammad Hamid Raza Khan\
